بلاگ کا تعارف

اس بلاگ کو بنانے کا مقصد مختلف سماجی و سیاسی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہے بلاگ کی زبان بھی اردو اسی لئے رکھی گئی ہے کے ہمارے ملک کی اکثریت اسی زبان کو بولتی اور سمجھتی ہے اور ہمارے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بیشتر صارفین کے پاس اردو میں پڑھنے کے لئے اخبارات اور شعر و شاعری کے سوا کچھ نہیں کیونکے اردو زبان میں پہلے ہی بہت کم بلاگ موجود ہیں تو یہ بلاگ اس کمی کو پورا کرنے کی ایک ادنی سی کوشش ہے- بلاگ کا نام سٹیل میٹ اگرچہ ایک انگریزی زبان کا لفظ ہے اسکی وجہ یہ ہے کے اردو میں اسکا کوئی متبادل لفظ موجود نہیں سٹیل میٹ شطرنج کے کھیل کی اصطلاح ہے جب دونوں میں سے ایک کھلاڑی کے پاس چلنے کو کوئی چال نہ ہو مگر بادشاہ کو شہ بھی نہ ہو رہی ہو تو اسکو اسٹیل میٹ کہا جاتا ہے اور گیم اس مقام پر ڈرا ہو جاتا ہے دونوں کھلاڑیوں میں سے کوئی بھی فاتح نہیں ہو پاتا. اگر دیکھا جائے تو ملک کے موجودہ حالات بھی سٹیل میٹ کی طرح ہی نظر آتے ہیں چلنے کو کوئی راستہ نہیں مگر کھیل ابھی ختم بھی نہیں ہوا یہ بلاگ بھی اسی پس منظر میں بنایا گیا ہے

3 comments:

Musharaf Muhammad نے لکھا ہے کہ

جنرل ضیاء کا پاکستان
جنرل ضیاء کے سیاہ دور سے پہلے ہمارا معاشرہ ایک متوازن معاشرے کے طور پر اس خطہ میں موجود تھا۔ نارمل انداز میں معاشرے میں نیکی بدی کا فلسفہ موجود تھا اور تقریبا شخصی آزادی میسر تھی۔ اس سیاہ دور سے پہلے معاشرے میں شد ت پسندی، فرقہ پرستی،مذہبی عصبیت اس شدت سے موجود نہ تھی۔ معاشرے میں مسجدوں کے ساتھ مزارات سینماہال، کلب موجود تھے۔ہرشخص کواس کی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا اختیارتھا۔
ضیاءالحقی دور کےآغاز کے ساتھ ہی معاشرے میں شدت پسندی کا طوفان آگیا۔ ہرطرف مذہبی شدت پسندی، جہادی کلچر، جنت کا حصول، نام نہاداسلام کا نفاذ ہی معاشرے کی پہچان بن گیا۔ ڈالر جہاد اور افغان بھائیوں کی مدد کے نام پر ہمارے معاشرے میں کلاشنکوف اور ہیروئن کو جان بوجھ کر فروغ دیا گیا۔
معاشرے میں سیاسی سوچ کو ختم کرنے اورعلاقائی عصیبت کو فروغ دینے کیلئے غیر سیاسی نظام متعارف کروایا گیا۔ ہر سماجی جگہ پر "سیاسی گفتگو منع ہے" کی ہدایت نمایاں جگہ پر حکومتی ہدایت پرآویزاں کروائی جاتی۔معاشرے سے سیاسی سوچ کو ختم کرنے کا مقصد معاشرے میں شدت پسندی کو فروغ دینا تھا۔
جہاد کلچر کو استعمال کرکے معاشرے میں غیر قانوںی دولت کو پھیلا دیا گیا۔ معاشرے میں مسلکی جنگ ضیاءالحقی دور کا ایک اور تخفہ ہے جو کہ ایک ناسور کی شکل میں ہمارے معاشرے میں پھیل چکا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ جنرل ضیاء اور اس کے حواریوں کا مقصد کسی بھی مسلک یا فرقہ کا فروغ ہرگز نہ تھا۔ یہ لوگ فکری طور پر اس قابل ہی نہ تھے۔ اس گروہ کا بنیادی فلسفہ صرف اور صرف معاشی تھا۔اس کا ثبوت اس طرح ہے کہ جو شخص خود بریلوی طرز فکر رکھتا ہو وہ کس طرح سے وہابیت کو فروغ دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن ڈالرز کا سر چشمہ تو وہابیت سے پھوٹتا تھا لہذا وہابی اسلام ہی اصلی اسلام ٹہھرا اوراس مسلک کے فروغ کیلئے ہرطرح کی مدد حکومتی اورغیر حکومتی سطح پر میسرتھی۔ اس وقت خطے کے حالات بھی اس صورتحال کیلئے سازگار تھے کہ اسلامی شدت پسندی کو فروغ دیا جائے اور ڈالر جہاد کیلئے نوجوانوں کو ورغلا کر استعمال کیا جائے۔
جنرل ضیاء کے سیاہ دور سے پہلے پرائیویٹ تعلیمی نظام کا نام ونشان بھی نہ تھا ہر طالبعلم ایک قسم کا نصاب پڑھتا تھا پرائیویٹ تعلیمی نظام نے معاشرے میں مختلف طبقات کو تیزی سے فروغ دیا۔ تعلیمی نظام کو کاروبار کا درجہ دینے سے معیاری تعلیم بہت بڑی آبادی کی پہنچ سے دور ہوگئی اوریہ شعوری کوشش معاشرے میں مدرسہ کلچر کے فروغ کا باعث بنی۔
ان سب کے پیچھے جنرل ضیاء یا ان کے حواریوں کا کوئی فکری فلسفہ نہ تھا کیونکہ یہ لوگ تو اس قابل ہی نہ تھے۔اس گروپ کا مسلک، فرقہ اور عقیدہ صرف اور صرف پیسہ اور ڈالر تھے۔ مذہبی احکامات کے علمدرآمد کو یہ ایک ٹول کی طرح استعمال کرتےتھے۔جیسے نظام ذکوۃ کا نفاظ،احترام رمضان کا بل،شراب کی ممانیت، جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی،ٹی وی اینکرزکیلئے دوپٹہ لازمی قرار دینا۔
آج ہم جس شدت پسندی کا سامنا کررہے ہیں یہ ضیاءالحقی دور کے بوئے ہوئے بیج ہیں جن کی آج ہم فصل کاٹ رہے ہیں اور پتا نہیں کتنا عرصہ ہم اس کو اور کاٹیں گے۔

imam bukhari نے لکھا ہے کہ

جناب آپ کی باتوں سے مکمل اتفاق ہے- یکسانیت کسی بھی معاشرے یا شعبے کی موت ہوتی ہے- جو تہذیبیں خوشحال ہیں یا ماضی میں کبھی ترقی یافتہ رہی ہیں اُن سب میں کثیرالثقافتی معاشرہ قدر مشترک تھی- جس کے نتیجے میں لوگوں میں رواداری اور تحمل کو فروغ ملتا تھا نفرتیں کم ہوتی تھیں اور مجموعی طور پر انسان اور اُس معاشرے کا بھلا ہی ہوتا تھا- جنرل ضیاء کی پالیسیوں سے معاشرے میں ایک مخصوس کلچر اور فکر کو فروغ دیا جانے لگا جس سے ہمارا معاشرہ تباہی کی جانب گامزن ہو گیا-

اس تباہی سے نکلنے کا کوئی شارٹ کٹ یا آسان راستہ نہیں ہے ہم اس سے اہستہ اسہتہ ہی نکلیں گے اِس میں دہائیاں بیت جائیں گی- مگر ضیائی سوچ کو بل آخر دم توڑ دینا ہے-

گمنام نے لکھا ہے کہ

یکسانیت کے قایّل کبھی اگے نھیں بڑھتے۔بس خود کو اور اپنے نظریات کو ھی ٹھیک سمجھتے سمجتھے صفحہ ھستی سے مٹ جاتے ھیں۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔