اتوار، 2 نومبر، 2014

پابندی مسئلے کا حل نہیں

ہر مرتبہ کی طرح اِس مرتبہ بھی محرم آتے ہی کچھ مخصوص موضوعات سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں زیرِ بحث نظر آ رہے ہیں- یہ موضوعات ہیں دہشتگردی اور عاشورہ کے جلوسوں کے حوالے سے- کچھ لوگوں کا خیال ہے امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ہر قسم کے جلوسوں پر پابندی ہونی چاہیے تاہم کچھ کا خیال ہے سیاسی نہیں صرف مذہبی عبادات کو عبادت گاہوں تک محدود کیا جائے- اِس رائے کے حال لوگ اکثر فرقہ پرست قسم کے اور اکثر سیکولر بھی ہوتے ہیں- زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کیسا سیکولرزم ہے جو عبادات کی آزادی کی بات کرنے کی بجائے عبادات پر پابندی لگانا چاہتا ہے-

جلوسوں پر پابندی یا عبادت گاہوں تک محدود کرنے کے لئے دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں اول امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور اِس طرح سے دہشتگردی کو روکا جا سکتا ہے- دوئم جلوسوں کی وجہ سے سڑکیں، ٹریفک اور کاروبار بند کرنا پڑتا ہے جسکی وجہ سے شہریوں کو پریشانی ہوتی ہے- اگر ہم اول الذکر وجہ کا جائزہ لیں تو ہمیں پھر فوجی چھاونیوں، سکولوں، ہسپتالوں، مزارات، مساجد کو بھی بند کر دینا چاہیے اور کرکٹ پر بھی پابندی لگا دینی چاہیے کیونکہ ہمارے ملک میں کچھ بھی محفوظ نہیں مذکورہ بالا تمام جگہوں پر حملے ہو چکے اور سری لنکن کرکٹ ٹیم کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا- اِس کے ساتھ ہمیں سیاست پر بھی پابندی لگا دینی چاہیے کیونکہ بے شمار سیاستدانوں پر بھی حملے ہو چکے اور کئی اُس میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے- ہمیں عدالتوں پر بھی پابندی لگا دینی چاہیے کیونکہ کئی وکلا اور جج صاحبان پر بھی حملے ہو چکے جسٹس مقبول باقر کا واقعہ تو زیادہ پرانہ نہیں جس میں وہ خوشقسمتی سے بال بال بچے تھے-

موخر الذکر وجہ جو بیان کی جاتی ہے وہ بلکل حقیقت پر مبنی بات ہے- جلوسوں کی وجہ سے واقعی ٹریفک سڑکیں اور کاروبار بند کرنا پڑتا ہے مگر صرف بڑے شہروں میں چھوٹے شہروں اور گاؤں دیہات میں یہ سب کیے بغیر بھی جلوس آرام سے گزر جاتا ہے- سوال یہ ہے کہ عاشورہ اور ربیع الاول کے جلوس دُنیا کے 255 میں سے کم از کم 175 ممالک میں نکالے جاتے ہیں- تو آخر صرف 1 ملک پاکستان کے چند شہروں میں ہی کیوں کاروبارِ زندگی معطل کرنا پڑتا ہے؟ اُس کی وجہ بہت سادہ ہے کہ ہمارے ملک میں لشکرِ جھنگوی سپاہ صحابہ ٹائپ فرقہ وارانہ دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جن سے جلوسوں کو خطرہ ہوتا ہے- جب ملک میں دہشتگردی نہیں تھی تب بغیر سڑکیں بند کیے جلوس آرام سے گزر جاتے تھے اور مستقبل میں بھی جب دہشتگردی نہیں ہوگی تب بھی جلوسوں کے لئے کوئی سڑکیں اور کاروبار بند کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی- ہمیں مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کی بات کرنی چاہیے حکومتوں پر زور دینا چاہیے کہ وہ دہشتگردی پر قابو پائیں بجائے اِس کے کہ شہریوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کی بات کریں-

جہاں تک عبادات کو عبادت گاہوں تک محدود کرنے کی بات ہے تو اِس سے بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا- احمدی، بوہری، ہندو اور عیسائی تو کوئی جلوس نہیں نکالتے مگر اُن کی عبادت گاہوں پر بھی حملے ہو چکے ہیں- یہ حملے نہ تو امریکی جنگ کا نتیجہ ہیں نہ ڈرون کا ردِ عمل ہیں نہ جلوسوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں بلکہ یہ حملے اُس انتہاء پسند سوچ کا نتیجہ ہیں جو ہمارے ملک میں موجود ہے جو اپنے سوا سب کو واجب القتل سمجھتی ہے- یہ سوچ نازی فاشزم سے کافی مماثلت رکھتی ہے جو صرف ایک مخصوص گروہ کو زندہ رہنے کا حق دینا چاہتی تھی- پاکستان کے اعتدال پسند شہریوں کو متحد ہو کر اِس فاشسٹ سوچ کا نہ صرف مقابلہ کرنا ہوگا بلکہ اِس کو شکست بھی دینی ہوگی ورنہ ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل خطرے میں ہے-
مکمل تحریر >>

بدھ، 21 مئی، 2014

پاکستان میں بلاسفیمی کی ستم ظریفی


مندرجہ ذیل تحریر علی سیٹھی کے آرٹیکل کا ترجمہ ہے جس کو ایکسپریس ٹریبیون نے سینسر کر دیا- جن چیزوں پر ریاست پابندی لگائے اُن کو ضرور پڑھنا چاہیے کیونکہ اُن میں کچھ تو ایسا ہے جو اربابِ اختیار نہیں چاہتے کہ آپ کو پتا لگے- اوریجنل تحریر یہاں پڑھی جا سکتی ہے- اُردو پڑھنے والے قارئین کی سہولت کے لئے خاکسار نے آرٹیکل کا اُردو ترجمہ کر دیا ہے-


پاکستان میں بلاسفیمی کی ستم ظریفی

مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میری زندگی بہت ہی لگی بندھی تھی-
مذکورہ بالا جملہ جنید حفیظ نے کہا جو جنوبی پاکستان سے تعلق رکھنے والا نوجوان شاعر اور فل برائٹ سکالر تھا اُس نے2011 میں ایک ریڈیو ہوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اُس نے طب کی تعلیم ادبی زندگی گزارنے کے لئے کیوں ترک کی- آج وہ جیل میں ہے ایک بلاسفیمی کے الزام کی وجہ سے جس کی سزا موت ہے، اور اُس وکیل کی موت کی وجہ سے غمزدہ ہے جو اُس کا دفاع کرنے وجہ سے قتل کر دیا گیا-
اپنی گرفتاری سے قبل جنید بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ انگریزی میں تدریس کے فرائض انجام دے رہا تھا جو اُس شہر کے قریب ہے جہاں وہ پلا بڑھا- اپنی سحر انگیز شخصیت اور روشن خیالی کی وجہ سے جہاں اُس نے اپنے شاگردوں کو گرویدہ بنا لیا تھا وہیں دیگر اُساتذہ کی حاسدانہ نگاہوں کا مرکز بھی بن گیا تھا-
2013 کے ایک دن ایک طالب علم نے جو سخت گیر جماعتِ اسلامی کی ذیلی شاخ اسلامی جمعیت طلباء سے تعلق رکھتا تھا جنید حفیظ پر فیس بک پر پیغمبرِ اسلام کی توہین کا الزام لگایا- طالب علم کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا، مگر کسی ثبوت کی ضرورت بھی نہ تھی-
سخت گیر طلباء نے جلد ہی احتجاج شروع کر دیا جس میں حفیظ کے لئے پھانسی کا مطالبہ کیا گیا- یونی ورسٹی انتظامیہ پیچھے ہٹ گئی- پولیس نے حفیظ کے خلاف بلاسفیمی کا مقدمہ درج کر لیا- اُنہوں نے سائبر کرائم کے ماہرین سے الزامات کی تحقیقات کروانے کی بجائے مدرسے کی جانب سے جاری کیے گئے فتوے پر انحصار کیا-
Jacob Stead

کئی ماہ تک حفیط کے والد وکیل ڈھونڈتے رہے- آخر کار اُنہوں نے بذریعہ پٹیشن 53 سالہ راشد رحمان کی خدمات حاصل کیں جو ہیومن رائٹس کمیشن ملتان کے سپیشل کو آرڈینیٹر تھے- ایک قانونی ماہر جسکا بحیثیت سرگرم کارکن 20 سالہ تجربہ تھا، رحمان مایوس کُن کیسز لینے کے حوالے سے جانے جاتے تھے- خطرات کے باوجود وہ حفیظ کا کیس لینے پر رضامند ہوگئے- توہینِ رسالت کے ملزم کا کیس لڑنے کے حوالے سے رحمان نے ایک رپورٹر کو بتایا کہ یہ موت کے منہ میں جانے جیسا ہے-
موت کا یہ دہانہ 1980 سے کھلا ہوا ہے جب فوجی ڈکٹیٹر جنرل محمد ضیاءالحق نے چند استعماری قوانین میں ترمیم کرکے "کسی بھی شخص کے" مذہب کی توہین کو جرم قرار دیا- اصل قوانین پدرشاہی برطانوی حکومت نے انیسویں صدی میں متعارف کروائے تھے تاکہ اُن کی کثیر المذہب رعایا باہم دست و گریباں نہ ہوں- وہ قوانین کسی خاص مذہب پر لاگو نہ ہوتے تھے اور جرمانہ یا زیادہ سے زیادہ 2 سال قید کی سزا دیتے تھے-

جنرل ضیاء کی ترامیم نے ان قوانین کو مخصوص کر دیا اور دفعات کو اسلام کے ایک سخت گیر سنی مسلک کے لئے موزوں بنا دیا- قرآن کی بے حرمتی، پیغمبر اسلام یا اُن کے اصحاب کے بارے میں کوئی بھی نازیبا جملہ جرم ٹھہرا- جو کہ پاکستان کی شیعہ اقلیت پر ایک حملہ تھا جن میں پیغمبرِ اسلام کی وفات کے بعد ہونے والی جانیشی کی جدوجہد کے نتائج کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے- اِس کے علاوہ کلعدم قرار دیے گئے احمدی فرقے کے کسی بھی فرد کی جانب سے خود کو مسلمان کہنے کی کوشش جرم ٹھہرائی گئی- سزاؤں میں اضافہ کر دیا گیا، گستاخ کو سزائے موت یا عمر قید دی جاسکتی تھی-
جنرل ضیاء 1988 میں فضائی حادثے میں ہلاک ہو گیا مگر اُس کی میراث جوں کی توں ہے- جس میں دینی شخصیات کو ہر شعبہ زندگی میں اختیار دینا ہے- مولویوں سے لے کر ٹیلی ویژن مبلغین، شدت پسند اساتذہ اور شریعہ کورٹ کے ججوں تک سب کو اس مقدس مہم جوئی میں تقویت ایک قانون نے پہنچائی جو آج تک ناقابلِ اصلاح حد تک ضیائی ہے-
بلاسفیمی قوانین اس سب کا حصّہ ہیں- دہائیوں تک یہ شاذ و نادر ہی استعمال ہوتے تھے اور اس نوعیت کے اِکا دُکا واقعات پیش آئے مگر جنرل ضیاء کی ترامیم نے سیلاب کے آگے بندھا بند کھول دیا- ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق تب سے اب تک ہزار سے زائد کیسز درج ہو چکے- پچھلے ہی ہفتہ پنجاب پولیس نے ایک سنی انتہاء پسند کی اشتعال انگیزی پر 68 وکلاء کے خلاف بلاسفیمی کا مقدمہ درج کر لیا-
بلاسفیمی قوانین کوئی بھی بداندیش اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے- کوئی ناراض رشتے دار، کوئی حاسد ساتھی، کوئی پڑوسی جس کی نظر آپ کی جائیداد پر ہو- مگر اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیشہ ور ملّاؤں کو ہوا جو ان کا استعمال کرکے ریاست اور معاشرے دونوں کو دھونس دینے میں مہارت رکھتے ہیں-
مجھے اس بات کا ادراک اگست 2009 میں ہوا جب میں نے پاکستان کے قلب میں واقع ایک چھوٹے شہر گوجرہ کی سوختہ عیسائی بستی کا دورہ کیا- ایک مسلمان کسان نے افواہ اُڑائی کے عیسائیوں نے قرآن کی توہین کی ہے جو کے ملّاؤں کی جانب سے کیے گئے مساجد کے لاؤڈ سپیکروں سے جذباتی اعلانات کے بعد فساد کی ابتر صورتحال میں تبدیل ہو گئی- جب پولیس نے ملّاؤں کو روکنے کی کوشش کی اُنہوں نے بلاسفیمی قوانین کا ذکر کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھمکایا کہ ہجوم کا رُخ گستاخوں کو بچانے کی وجہ سے اربابِ اختیار کی طرف کر دیا جائے گا- 60 کے قریب عیسائیوں کے گھر نذرِ آتش کیے گئے اور 8 عیسائی مارے گئے-

ملّا ہمیں بتاتے ہیں کے کوئی بھی مسلمان مشتعل ہو کر متشدد ہو سکتا ہے جب اُس کے مذہب کی توہین کی جائے- مگر حقیقت جیسا کے سرکاری رپورٹ سے ظاہر ہے کافی متضاد اور افسوس ناک ہے- ایک بلاسفیمی کا الزام جب کوئی مذہبی کارکن اٹھائے تو اس سے ان گنت مفادات حاصل کیے جا سکتے ہیں، چھوٹی ذاتی ضروریات سے لے کر بڑے سیاسی مقاصد تک اور ایک مقدس سب کے لئے کھلی چھوٹ والا ماحول بنایا جا سکتا ہے- گوجرہ بلوائیوں میں علاقائی حزبِ اختلاف سیاستدان کے حلقے کے افراد، اور مسلح کلعدم سنی تنظیم لشکرِ جھنگوی کے لوگ ملوث تھے اور  آس پاس کے علاقوں کے کسان اور دھاڑی دار مزدور بھی لوٹ مار میں شامل ہو گئے-
پاکستان کے اسلامسٹ گروپس کو بلاسفیمی قوانین کی اصلاح میں برائے نام دلچسپی ہے- اُنہوں نے بلکہ ان قوانین کا دائرہ کار بڑھا کر اِن قوانین پر تنقید کو بھی اس میں شامل کر دیا ہے- اس مقصد کے حصول کے لئے اختلاف رکھنے والی مشہور شخصیات کو نشانہ بنایا گیا جن میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر، وفاقی وزیر برائے اقلیت شہباز بھٹی شامل ہیں جن کو 2011 میں قتل کر دیا گیا-
اور صرف دو ہفتے قبل راشد رحمان کا قتل ہوا-
اُنہوں نے مافیا کی طرز پر اُس کے گرد گھیرا تنگ کیا، ہر جانب سے- سب سے پہلے اُردو اخبارات میں مبم پیغامات کے ذریعے خبردار کیا گیا جس میں ایک وکیل کا ذکر کیا گیا جو "خود کو نقصان" پہنچانے پر تُلا تھا- پھر ملتان میں ایک پریس کانفرنس کی گئی جس میں سخت گیر ملّاؤں کے ایک گروہ نے رحمان پر حفیظ کے کیس کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کا الزام لگایا- اپریل میں حفیظ کے مقدمے کے دوران استغاشہ کے تین وکلاء نے جج کے سامنے رحمان کو کہا کے اگلی پیشی تک وہ "باقی نہیں رہے گا"-
رحمان کے ہیومن رائٹس کمیشن کے ساتھیوں نے حکومت سے سیکورٹی مہیا کرنے کی اپیل کی گزارش کی تھی- اُن کو کوئی مدد نہ ملی- حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ماضی میں بھی شدت پسند گروہ جیسے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے رعایت دے چکی ہے-
7 مئی کی رات دو نوجوان ڈسٹرکٹ کورٹ ملتان کے قریب رحمان کے دفتر میں داخل ہوئے اور اُس کو اُس کے ساتھیوں کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا اور رات کی تاریکی میں فرار ہو گئے- اگلی صبح تقریباً تمام اخبارات نے اُن کا ذکر "نامعلوم افراد" کہہ کر کیا- مگر جو چیز رحمان کے قتل کا محرک بنی اُس کی نشاندہی کی جا سکتی ہے: وہ پُرتشدد عدم برداشت ہے جس میں ریاست کی مجرمانہ اعانت شامل ہے-
مکمل تحریر >>

جمعرات، 15 مئی، 2014

فیس بک کا مستقبل

کچھ عرصہ پہلے ایک امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر (یونیورسٹی اور پروفیسر دونوں کا نام یاد نہیں) کی جانب سے فیس بک کے زوال کے متعلق ایک مضمون لکھا گیا تھا- مضمون کا بنیادی مقدمہ کچھ یوں تھا کے فیس بک پر ایکٹیو یوزرز کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے اور فلاں سال تک فیس بک قصہ پارینہ ہو چکا ہوگا- فیس بک انتظامیہ اور جنرل پبلک دونوں نے ہی اُس کو دیوانے کی بڑ سمجھا اور سنجیدہ نہ لیا- فیس بک کے کچھ ملازمین جو بلاگنگ سے وابسطہ ہیں اُنہوں نے جواب میں استہزائیہ مضامین لکھے اور کوئی خاطر خواہ سنجیدہ جواب نہ دیا-

میں نے اُس مضمون میں جو پیش گوئی والا عنصر تھا اُس کو سنجیدہ نہیں لیا تھا کیونکہ مستقبل کی پیش گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت نہیں ہوتی مگر مجھے اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ فیس بک سوشل میڈیا کی آخری منزل نہیں ہے- جو لوگ عرصے سے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں سوشل میڈیا کی سب سے پہلی منزل یاہو اور ایم ایس این گروپس تھے، پھر اورکٹ نامی ایک سائٹ آئی، ساتھ میں Hi5 بھی آیا، اِن دونوں کے بعد مائی سپیس آیا اور پھر فیس بک اور ٹویٹر کا زمانہ آیا- ایک کے بعد ایک سائٹ تاریخ کا حصّہ بنتی گئی اور اُس کی جگہ نئی سائٹ لیتی گئی-

پچھلے کچھ عرصے سے فیس بک نے کئی ایسی تبدیلیاں کی ہیں جو فیس بک کے زوال کی طرف اشارہ کرتی ہیں، مثلاً سب سے پہلے پیج کی reach کم کی یعنیٰ آپ اگر اپنے پیج پر کوئی پوسٹ لگائیں تو وہ 100 فیصد پیج ممبران تک نہیں پہنچے گی، سو فیصد ممبران تک پوسٹ کی رسائی کے لئے آپ کو پیسے دینے پڑیں گے- ابتداء میں پوسٹ کی مفت پہنچ 60 فیصد ممبران تک تھی آہستہ آہستہ پوسٹ کی پہنچ کم ہوتی گئی اور اب میرا خیال ہے کسی پیج کی پوسٹ بمشکل بیس یا تیس فیصد ممبران تک ہی پہنچ پاتی ہے- (بیشک وہ پوسٹ کی نوٹیفیکیشن آن ہی کیوں نہ رکھیں)- یہی وجہ ہے بیشتر پیج ایڈمنز کا اب کچھ دل نہیں کرتا اپنے پیج پر پوسٹ کرنے کو سوائے اُن پیجز کے جن پر بیس تیس ہزار یا لاکھوں ممبران ہوں- اگر فیس بک نے اپنا قبلہ دُرست نہ کیا تو عین ممکن ہے اِن کا بھی انجام مائی سپیس یا اورکٹ والا ہی ہو-
مکمل تحریر >>

بدھ، 14 مئی، 2014

جلسوں اور دھرنوں کی سیاست

زمانہ طالب علمی میں ایک بار یونیورسٹی کی طرف سے ایک ٹاک شو میں جانے کا اتفاق ہوا- ٹاک شو سے آپ شاید کوئی سیاسی ٹاک شو سمجھ رہے ہوں جس میں تین سیاستدان بیٹھے ہوتے ہیں ایک اینکر کے سامنے مگر یہ دوسرے فارمیٹ کا شو تھا- خبرناک یا ساحر لودھی شو جیسا، جس میں اینکر کے سامنے ایک یا دو مہمان ہوتے ہیں اور سامنے کچھ آڈینس بیٹھی ہوتی ہے- ہوا کچھ یوں تھا کہ ہماری کلاس میں ایک خاتون آئیں جو کے اُس شو کی کوآرڈینیٹر تھیں، اُنہوں نے پوچھا ٹاک شو  میں کون کون جانا چاہتا ہے؟ کئی طالب علموں نے حامی بھر لی اُنہوں نے موضوع بھی بتا دیا کے فلاں موضوع پر ہوگا اور یہ بھی کہا آپ کی پارٹیسیپیشن بھی ہوگی آپ لوگ مہمانوں سے جو کے اپنے شعبے کے ماہرین ہونگے سوال بھی پوچھ سکیں گے- شو لائیو نہیں تھا اگلے دن اتوار تھا صبح کے وقت اُس شو کی ریکارڈنگ ہونی تھی مجھ سمیت کئی طالب علم وقت پر آٹھ بجے یونیورسٹی پہنچ گئے جہاں سے اُن خاتون نے پک کرنے کے لئے گاڑی بھیجنی تھی- کچھ دیر بعد گاڑی آگئی اور ہم سب سٹوڈیو پہنچ گئے- وہاں جا کر ہم آڈینس میں بیٹھ گئے- شو کے ہوسٹ موصوف تاخیر سے پہنچے ریکارڈنگ کے لئے خیر جیسے تیسے ریکارڈنگ شروع ہوئی-

 آڈینس میں میرے برابر میں ایک خاتون بیٹھی تھیں جو اپنی بیٹی کے ساتھ آئی ہوئی تھیں- اُنہوں نے مجھ سے پوچھا آپ پڑھتے ہیں، میں نے کہا جی میں پڑھتا ہوں، چونکہ میں خود یونیورسٹی سے گیا تھا تو میں سمجھا شاید وہ بھی کسی دوسری یونی ورسٹی کی ٹیچر ہونگی، میں نے اُن سے پوچھا آپ کہاں پڑھاتی ہیں؟ اُنہوں نے کہا کہیں بھی نہیں، میں نے کہا اچھا آپ اپنی بیٹی کے ساتھ آئی ہونگی یہ کس یونیورسٹی میں ہیں؟ اُن کا جواب تھا یہ ہاوس وائف ہے پڑھتی نہیں ہے- اب مجھے کچھ حیرت ہوئی کیونکہ میں سمجھ بیٹھا تھا کے آڈینس میں باقی لوگ بھی ہماری طرح یونیورسٹیوں سے ہی لائے گئے ہیں- یہ حیرت ریکارڈنگ ختم ہونے تک دور ہو گئی کیونکہ جب ریکارڈنگ ختم ہوئی تو وہ خاتون برابر والے سٹوڈیو میں کسی اور پروگرام کی ریکارڈنگ میں چلی گئی تھیں- تب مجھ پر یہ راز کھلا آڈینس میں تمام لوگ یونیورسٹیوں کے نہیں تھے آدھے تھے اور باقی آدھے چھوٹے موٹے ایکٹرز تھے جن کو عام طور پر آج کل ہم جرائم والے پروگرامز کی re-enactment میں کام کرتے دیکھتے ہیں یا پھر مایا خان کے مارننگ شو میں پرفارم کرتے دیکھتے ہیں- پروگرام میں شرکت کی جہاں تک بات تھی تو وہ غلط نکلی کیونکہ ٹاک شو کی اسسٹنٹ پروڈیوسر نے آ کر پہلے ہی اُن لوگوں کی نشان دہی کر دی تھی جن کو مائیک دیا جانا تھا اور جنہوں نے سوال کرنے تھے- پہلے سے طے شدہ لوگ اور طے شدہ سوالات- اب آپ یقیناً جان چکے ہوں گے ٹی وی ٹاک شوز میں جو ہمیں آڈینس بیٹھی نظر آتی ہے وہ کون ہوتے ہیں اور کہاں سے لائے جاتے ہیں، کچھ میرے جیسے ہوتے ہیں جو کسی یونیورسٹی، کالج سے لائے جاتے ہیں اور وہ شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی اتوار کی نیند قربان کرتے ہیں اور باقی معاوضہ لینے والے اداکار ہوتے ہیں-

اس تمہید کے بعد ہم آتے ہیں آج کل ہونے والی سیاسی جلسوں اور احتجاجی دھرنوں پر، جس میں کامیابی کا معیار جلسے میں شریک افراد کی تعداد کو سمجھا جاتا ہے- جب کہ میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں اگر کوئی جماعت لوگوں کی بڑی تعداد اکھٹی کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو یہ اُنکی سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں- کسی جماعت کے عوام میں مقبول ہونے کی پہلے دلیل یہ ہوگی کہ لوگ اُن کے جلسے کا سنتے ہی خود ہی گھروں سے نکل پڑیں، اُن کو گھروں سے لانے کے لئے اگر گاڑیاں بھیجنی پڑیں باقائدہ مہم چلانی پڑے تو یہ جلسہ کامیاب نہیں بلکہ اِس کو کامیاب بنانے کی کوششیں کی جارہی ہونگی- لوگوں کی ایک معقول تعداد تو ٹی وی ٹاک شوز والے بھی اکٹھی کر لیتے ہیں مگر کیا مذکورہ بالا شو کو کامیاب سمجھا جائے؟ ہو سکتا ہے اُس شو کی ریٹنگ بڑی زبردست ہو مگر کیا جو اُس کا حقیقی مقصد تھا وہ پورا ہوا؟ میرا خیال ہے نہیں- اسی طرح جعلی جلسوں سے سیاسی جماعتوں کو ریٹنگ بھی بڑی اچھی مل جاتی ہوگی مگر اُن جلسوں کا جو حقیقی مقصد ہوتا ہے الیکشن میں ووٹ حاصل کرنا وہ پورا نہیں ہو پاتا- پاکستان میں جلسے جلوسوں کے لئے بندے فراہم کرنا ایک کاروبار بن چکا ہے آپ کو ہر شہر میں ایسے لوگ مل جائیں گے جو جلسے جلوسوں کے لئے پیسے لے کر بندے فراہم کرتے ہیں- کچھ عرصے پہلے اس کاروبار پر ایک چینل نے ڈاکومنٹری بھی بنائی تھی- جب ایسی صورتحال ہو تو میرا نہیں خیال سیاسی کامیابی کا پیمانہ جلسے اور دھرنے ہو سکتے ہیں-
مکمل تحریر >>

بدھ، 7 مئی، 2014

طالب علم اور شہزادے کے ہاتھی

اسکول کی گھنٹی جیسی ہی بجی سارے طالب علم کلاسوں سے باہر نکل کر گھروں کو جانے لگے مگر ایک طالب علم بضد ہو کر اسکول کی راہداری میں ہی بیٹھ گیا اور کسی صورت گھر جانے کو تیار نہ ہو- اُساتذہ کے پوچھنے پر طالب علم نے بتایا سالانہ امتحانات میں اُسکے ساتھ نا انصافی کی گئی جسکی وجہ سے اُسکے نمبر کم آئے اور یوں وہ اگلی کلاس میں نہ جاسکا تو اب وہ احتجاج کر رہا ہے یہ دھرنا اُسکے مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا- اساتذہ نے پوچھا تو تم نے پہلے کیوں اس پر کوئی احتجاج نہ کیا؟ ایک ماہ بعد کیوں خیال آیا تمہیں؟ طالب علم نے جواب دیا میں نے رزلٹ تسلیم کیا تھا مگر فیل ہونا تسلیم نہیں کرتا- میں سولہ سال سے امتحان دیتا آرہا ہوں مگر کسی امتحان میں پاس نہیں ہو سکا کیونکہ میرے ساتھ ہر امتحان میں بے ایمانی کی جاتی ہے- مگر ایسا بھی تو ہو سکتا ہے تمہاری کارکردگی واقعی اتنی خراب ہو کے نمبر نہ ملتے ہوں؟ ایک اُستاد نے کہا- طالب علم نے جواب دیا او جعلی اُستاد ڈالر خور فاشسٹ مجھے تم سے ایسی ہی بات کی اُمید تھی، تم صرف ان کرپٹ اور نالائق طالب علموں کو پاس کر سکتے ہو امتحان میں کیونکہ یہ تمہیں ڈالروں میں فیس ادا کرتے ہیں اور مجھ جیسا ایماندار و دیانت دار انسان ڈالر میں فیس ادا کرنے سے قاصر ہے- اسی اثناء میں طالب علم نے اسکول کے سابقہ پرنسپل اقبال چوہدری کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی- ایک اُستاد نے پوچھا امتحان سے پہلے تک تو تم پرنسل صاحب کے قصیدے پڑھا کرتے تھے مگر اب اچانک کیا ہو گیا جو تم اپنی ناکامی کا ذمہ دار سابق پرنسپل کو بھی ٹھہراتے ہو؟ طالب علم نے جواب دیا، "چوہدری اقبال نے امتحانات میں اپنے منظورِ نظر طالب علموں کو کامیاب کروانے کے لئے جو شرمناک کردار ادا کیا ہے اُس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا" اچھا مگر نتائج آنے کے بعد تو تم نے چوہدری اقبال کا نام تک نہ لیا تھا اگر پرنسپل صاحب تمہاری ناکامی کے ذمہ دار تھے تو اُسی وقت نام لیتے، ایک ساتھی طالب علم نے کہا- احتجاج کرنے والے طالب علم نے غصّہ سے جواب دیا او پٹواری تُو تو وکالت کرے گا ہی اقبال چوہدری کی اُس نے ملی بھگت سے تجھے پاس جو کر دیا- تم، اقبال چوہدری اور شکیل ہاکر سب ملے ہوئے تھے امتحانات میں مجھے ناکام کرنے کے لئے- ہیں؟ مگر شکیل ہاکر جو گلی کے نکڑ پر اخبار بیچتا ہے اُسکا امتحانات میں تمہارے ناکام ہونے سے کیا تعلق؟ وہ تو صرف امتحانی نتیجہ اپنے اخبار میں شائع کرتا ہے- ایک اُستاد نے حیرت سے پوچھا- او میں نہیں جانتا بس میں کہہ رہا ہوں نہ شکیل اخبار فروش نے جیسے ہی اخبار میں امتحانی نتائج کی لسٹ چھاپی امتحانات کا نقشہ ہی بدل گیا جن پیپروں میں، میں پاس ہونے والا تھا اُن میں بھی فیل ہو گیا اور یہ سب شکیل اخبار فروش کی وجہ سے ہوا، دھرنا دینے والے طالب علم نے جواب دیا-
مکمل تحریر >>

اتوار، 13 اپریل، 2014

صرف برائیاں ہی نظر آتی ہیں؟

حال ہی میں آئی 2 امریکی فلمیں، django unchained اور 12 years a slave جنہوں نے نہیں دیکھیں میرا مشورہ ہے ضرور ملاحظہ کریں، دونوں فلموں کی کہانی انیسویں صدی کے امریکہ پر مبنی ہے جب غلامی کا رواج عام تھا- ان فلموں کو دیکھ کر آپ کو پتا چلے گا غلام کن حالات میں اپنی زندگی گزارتا تھا اُس پر کس قسم کے مظالم کیے جاتے تھے اور اُنکا استحصال کرکے آقا کس طرح اپنی دولت میں اضافہ کیا کرتے تھے- امریکی تاریخ کا یہ تاریک پہلو دُنیا کے سامنے خود امریکی فلم ساز ہی لے کر آئے ہیں- ان فلموں کو کافی ایوارڈ بھی ملے مگر امریکہ میں کسی نے ان فلمسازوں پر پاکستانی ایجنڈے کے تحت کام کرنے کا الزام نہیں لگایا، نہ کسی نے یہ کہا کے یہ فلمیں پاکستانی سازش ہیں امریکہ کو بدنام کرنے کی جب ہی ان فلموں کو اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کے تمام فلم ایوارڈز کے لئے نامزد ہوئیں- نہ کسی نے یہ کہا، ان فلم سازوں کو امریکی تاریخ نظر آتی ہے، عربوں کی تاریخ نظر نہیں آتی؟ کیا اُنہوں نے غلاموں کا کم استحصال کیا؟ یہاں تک کے خلیفہ اور سپاہ سالار کے درمیان اس بات پر جھگڑا ہو جاتا تھا کے مفتوح علاقوں کے اچھے غلام اور کنیزیں سپہ سالار نے اپنے پاس رکھ لئے خلیفہ کو نہیں پیش کیے- عرب ممالک میں آج تک غیر ملکی ملازمین کے ساتھ غلاموں والا سلوک ہوتا ہے یہ نہیں دکھائی دیتا اِنکو؟ نہ کسی نے یہ کہا ان فلم سازوں کو انڈیا نظر نہیں آتا جہاں آج بھی غربت اور افلاس کے ہاتھوں انسان کی حالت غلاموں جیسی ہے؟ ان فلم سازوں کو پاکستان نہیں نظر آتا جہاں آج تک مزارعوں کی حالت وڈیرے اور جاگیردار کے زرخرید غلام جیسی ہے جہاں ہر سال غیرت کے نام پر ہزاروں عورتیں غلاموں کی طرح قتل کر دی جاتی ہیں یا اُنکے چہرے تیزاب پھینک کر مسخ کر دیے جاتے ہیں، جہاں 16 سالہ بچی تعلیم کے حق میں آواز اٹھانے پر گولی کھاتی ہے- ان فلم سازوں کو سعودی عرب نظر نہیں آتا جہاں عورت کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں،  گیارہ ستمبر کے حملے نظر نہیں آتے جس میں 3000 امریکی مارے گئے؟ یہ اُس پر بات کیوں نہیں کرتے؟ امریکیوں پر ہونے والے ظلم پر اِن رُوپے اور ریال خور فلم سازوں کی زبانوں کو تالا لگ جاتا ہے؟ ان فلم سازوں کو شمالی کوریا اور ایران کیوں نہیں نظر آتا؟ روس کی یوکرین میں مداخلت پر یہ بات کیوں نہیں کرتے؟ اُس پر کوئی فلم کیوں نہیں بناتے؟ یہ ہزار سال پہلے گزرے وائکنگز کی تاریخ پر بات کیوں نہیں کرتے جنہوں نے برطانیہ پر حملے کرکے انسانوں کو تہہ تیغ کیا- اِنکو تاریخ میں چنگیز اور ہلاکو کی قتل و غارت نہیں یاد ان کو ہٹلر سٹالن پول پوٹ اور ماؤ کے دور میں مارے گئے لوگوں پر کوئی فلم بنانے کا خیال کیوں نہیں آتا؟ افغانستان میں طالبان نے جس طرح تاجکوں اور ہزارہ کا قتلِ عام کیا یہ اُسکی بات کیوں نہیں کرتے؟  ان کو تاریخ میں صرف امریکیوں کی برائیاں ہی نظر آتی ہیں اور امریکہ دُشمن یہودی نواز آسکر جیوری جس نے ان برائیوں پر مبنی فلموں کو بھرپور پذیرائی دی، یہ سب امتِ مسلمہ کی امریکہ جیسی تاقیامت قائم رہنے والی نظریاتی ریاست کے خلاف ایک منظم سازش ہے-
مکمل تحریر >>

سوموار، 20 جنوری، 2014

جاوید چوہدری اور طالبان ترجمان - ایک مختلف نقطہ نظر

ہم بحثیت قوم وہ لوگ ہیں جو کسی بھی معاملے میں متوازن سوچ اور رویوں کے حامل نہیں- کرکٹ سے متعلق ہمارے رویے پر غور کرتے ہیں- جب ٹیم کوئی میچ ہارتی ہے تو وہی لوگ سب سے زیادہ لعن طعن کرتے ہیں جو پچھلے میچ کی جیت پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہوتے- شاہد آفریدی کوئی میچ بہترین کارکردگی سے جتوا دے تو پوری قوم کا بس نہیں چلتا اُسکو دیوتا مان لے اور یہی آفریدی اگلے کسی میچ میں صفر پر آوٹ ہو جائے تو اُسکے تمام ناقدین اپنی توپوں کا رُخ اُسکی جانب کر دیتے ہیں اور اُسکے جارحانہ سٹائل پر تنقید شروع ہو جاتی ہے- اُسکے بارے میں لطائف گھڑ کر sms کیے جاتے ہیں- سیاست اور زندگی کے دیگر معاملات میں بھی ہمارا رویہ اسی طرح غیر متوازن ہے-

مکمل تحریر >>