بدھ، 7 مئی، 2014

طالب علم اور شہزادے کے ہاتھی

اسکول کی گھنٹی جیسی ہی بجی سارے طالب علم کلاسوں سے باہر نکل کر گھروں کو جانے لگے مگر ایک طالب علم بضد ہو کر اسکول کی راہداری میں ہی بیٹھ گیا اور کسی صورت گھر جانے کو تیار نہ ہو- اُساتذہ کے پوچھنے پر طالب علم نے بتایا سالانہ امتحانات میں اُسکے ساتھ نا انصافی کی گئی جسکی وجہ سے اُسکے نمبر کم آئے اور یوں وہ اگلی کلاس میں نہ جاسکا تو اب وہ احتجاج کر رہا ہے یہ دھرنا اُسکے مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا- اساتذہ نے پوچھا تو تم نے پہلے کیوں اس پر کوئی احتجاج نہ کیا؟ ایک ماہ بعد کیوں خیال آیا تمہیں؟ طالب علم نے جواب دیا میں نے رزلٹ تسلیم کیا تھا مگر فیل ہونا تسلیم نہیں کرتا- میں سولہ سال سے امتحان دیتا آرہا ہوں مگر کسی امتحان میں پاس نہیں ہو سکا کیونکہ میرے ساتھ ہر امتحان میں بے ایمانی کی جاتی ہے- مگر ایسا بھی تو ہو سکتا ہے تمہاری کارکردگی واقعی اتنی خراب ہو کے نمبر نہ ملتے ہوں؟ ایک اُستاد نے کہا- طالب علم نے جواب دیا او جعلی اُستاد ڈالر خور فاشسٹ مجھے تم سے ایسی ہی بات کی اُمید تھی، تم صرف ان کرپٹ اور نالائق طالب علموں کو پاس کر سکتے ہو امتحان میں کیونکہ یہ تمہیں ڈالروں میں فیس ادا کرتے ہیں اور مجھ جیسا ایماندار و دیانت دار انسان ڈالر میں فیس ادا کرنے سے قاصر ہے- اسی اثناء میں طالب علم نے اسکول کے سابقہ پرنسپل اقبال چوہدری کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی- ایک اُستاد نے پوچھا امتحان سے پہلے تک تو تم پرنسل صاحب کے قصیدے پڑھا کرتے تھے مگر اب اچانک کیا ہو گیا جو تم اپنی ناکامی کا ذمہ دار سابق پرنسپل کو بھی ٹھہراتے ہو؟ طالب علم نے جواب دیا، "چوہدری اقبال نے امتحانات میں اپنے منظورِ نظر طالب علموں کو کامیاب کروانے کے لئے جو شرمناک کردار ادا کیا ہے اُس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا" اچھا مگر نتائج آنے کے بعد تو تم نے چوہدری اقبال کا نام تک نہ لیا تھا اگر پرنسپل صاحب تمہاری ناکامی کے ذمہ دار تھے تو اُسی وقت نام لیتے، ایک ساتھی طالب علم نے کہا- احتجاج کرنے والے طالب علم نے غصّہ سے جواب دیا او پٹواری تُو تو وکالت کرے گا ہی اقبال چوہدری کی اُس نے ملی بھگت سے تجھے پاس جو کر دیا- تم، اقبال چوہدری اور شکیل ہاکر سب ملے ہوئے تھے امتحانات میں مجھے ناکام کرنے کے لئے- ہیں؟ مگر شکیل ہاکر جو گلی کے نکڑ پر اخبار بیچتا ہے اُسکا امتحانات میں تمہارے ناکام ہونے سے کیا تعلق؟ وہ تو صرف امتحانی نتیجہ اپنے اخبار میں شائع کرتا ہے- ایک اُستاد نے حیرت سے پوچھا- او میں نہیں جانتا بس میں کہہ رہا ہوں نہ شکیل اخبار فروش نے جیسے ہی اخبار میں امتحانی نتائج کی لسٹ چھاپی امتحانات کا نقشہ ہی بدل گیا جن پیپروں میں، میں پاس ہونے والا تھا اُن میں بھی فیل ہو گیا اور یہ سب شکیل اخبار فروش کی وجہ سے ہوا، دھرنا دینے والے طالب علم نے جواب دیا-

وقت تیزی سے بیت رہا تھا شام کے سائے گہرے ہونے لگے، طالب علم کسی صورت بات ماننے کو تیار نہیں تھا اور اپنی ہی بات پر اَڑا ہوا تھا اُساتذہ کو کچھ سمجھ نہ آئے کے وہ اُسکو کیسے سمجھا بجھا کر گھر بھیجیں ایک اُستاد نے پوچھا اب تم کیا چاہتے ہو؟ طالب علم نے جواب دیا " امتحانی پرچے دوبارہ چیک کروائے جائیں اگر غلط چیکنگ نکل آئے تو شرفو چوکیدار کی نگرانی میں دوبارہ امتحان لئے جائیں- مگر اب یہ ممکن نہیں اگلی کلاسیں شروع ہو چکی ہیں اگر ہم دوبارہ سے پچھلے امتحان کے چکر میں ہی پڑے رہیں گے تو طالب علموں کا موجودہ تعلیمی سال بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے، اُساتذہ نے کہا- تو پھر میں یہیں بیٹھا رہوں گا باہر سے کسی بھی وقت شرفو چوکیدار اندر آکر عمارت پر قبضہ کر لے گا اور پھر وہی ہوگا جو میں کہونگا، اب سوچ لو تم سب جعلی اُستادوں- طالب علم نے قدرے اُمید سے جواب دیا- تمام اُساتذہ آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے کے کس طرح اس مصیبت سے جان چھڑائیں اور گھر جائیں جہاں اُنکے گھر والے انتظار کر رہے ہونگے- اچانک ایک اُستاد کو طالب علم کا احتجاج ختم کروانے کی تدبیر ذہن میں آئی اُس نے کہا " سنو عمیر، تمہارا وہ دوست جو کیمرج اسکول میں پڑھتا ہے کیا نام ہے اُسکا شہزادہ سلیم، اُسکے گھر میں پالے ہوئے نایاب نسل کے ہاتھی معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں اور اُسکو تمہاری مدد کی ضرورت ہے وہ تمہیں یاد کر رہا تھا، یہ سن کر عمیر خان نے آؤ دیکھا نہ تاؤ احتجاج اور امتحان میں ناکامی بھول کر اپنے دوست سلیم شہزادے کے گھر کی طرف دوڑ لگا دی تاکہ اُسکے ہاتھیوں کو بچا سکے-

1 comments:

Baibur Saladin نے لکھا ہے کہ

یہ کہانی تو سنی سنی لگتی ہے مگر بچہ کی نہیں باسٹھ سالہ بزگ کی

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔