بدھ, اگست 21, 2013

فرقہ واریت اور ہمارا معاشرہ

فرقہ واریت ہمارے ملک کے مسائل میں سے ایک ایسا مسلہ ہے جو گزشتہ کچھ سالوں میں انتہائی شدت اختیار کر گیا ہے اور ملک کے بعض علاقوں  کوئٹہ،گلگت ،پاراچنار ،کراچی اور جنوبی پنجاب کو یہ عفریت مکمل طور پر  اپنی گرفت میں لے چکا ہے- افسوسناک بات یہ ہے کے کراچی کے بعض علاقوں، کوئٹہ اور پاراچنار میں ہر دوسرا گھرانہ فرقہ واریت کے ہاتھوں اپنے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ضرور کھو چکا ہے  اور ایسے بہت سارے خاندان ہیں جن کے یکے بعد دیگرے ایک ایک کر کے گھر کے تمام مرد حضرات  مار دیے گئے- اس سے بھی زیادہ پریشن کن بات یہ ہے کے عوام کی اکثریت اس بات کو تسلیم کرنے سے ہی گریزاں ہے کے اس قتل عام کے پیچھے کوئی فرقہ وارانہ محرکات ہیں زیادہ تر لوگ یا تو اسکو امریکا و دیگر بیرونی قوتوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں یا پھر اس پر سرے سے بات کرنے یا لکھنے سے ہی گریز کرتے ہیں- جو لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کے ہاں یہ قتل عام فرقہ وارانہ ہے وہ اسکا ذمہ دار امریکا کی افغانستان میں جنگ یا پھر خومینی انقلاب کو ٹہرا دیتے ہیں جب کے میری راے میں یہ مسلہ 1979 یا 2001 میں نہیں شروع ہوا اسکی تاریخ کافی پرانی ہے-


تقسیم ہند سے قبل متحدہ ہندوستان میں شیعہ اور سنی مسلمان مل جل کر رہا کرتے تھے اور تھوڑی بہت تحقیق کرنے پر پاکستان کے قیام سے پہلے متحدہ ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات کے تو کافی  واقعات ملے مگر شیعہ سنی کوئی تنازع نہیں ملا نہ ہی کوئی فرقہ وارانہ فساد کا ذکر ملتا ہے اور میرا خیال ہے اسکی وجوہات معاشرے میں برداشت اور روا داری موجود ہونے کے علاوہ ایک اہم کردار صوفی تعلیمات اور روایات  کا ہے- ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کے دونوں فریقوں کو ایک  طاقتور مشترکہ مخالف ہندوں کا سامنا بھی تھا  تو ایسی صورتحال میں دونوں فرقے آپس میں کسی بھی قسم کی عداوت کے متحمل نہیں ہو  سکتے تھے-

قیام پاکستان کے بعد ہمیں فرقہ وارانہ قتل عام کا پہلا بڑا واقعہ 1963 میں خیر پور سندھ میں ملتا ہے جس میں 118 شیعہ قتل کر دیے گئے تھے (تفصیلات یہاں ملاحظہ کریں)- قابل غور بات یہ ہے کے یہ وہ زمانہ ہے جب نہ تو ایران میں خومینی انقلاب آیا تھا اور نہ ہی افغانستان میں امریکا موجود تھا یہ مسلہ موجود تو پہلے سے تھا مگر اس میں شدت اس وقت آنی شروع ہوئی جب ایران میں خومینی انقلاب آیا اور اس سے خوفزدہ ہو کر ضیاءالحق حکومت نے پاکستان میں ریاستی سطح پر ایک الگ ہی قسم کا اسلام متعارف کروانا شروع کیا اس برانڈ کے اسلام کی ترویج اور پاکستان میں ایرانی انقلاب کے اثرات کا تدارک کرنے کے لئے  1980 میں سپاہ صحابہ نامی تنظیم بنائی گئی اور اسکو ریاست کی طرف سے بھرپور مدد فراہم کی گئی - اسکے بعد ہم نے دیکھا 80 کی پوری دہائی سپاہ صحابہ نے ملک کے مختلف حصوں میں شیعہ ذاکرین اور مختلف ماہرین مثلا ڈاکٹروں وکیلوں وغیرہ کو نشانہ بنایا  یہ سلسلہ دس سال تک اسی طرح چلتا رہا جس کے بعد دوسری جانب سے سپاہ صحابہ کے ردعمل میں سپاہ محمد نامی تنظیم بنائی گی اور اس تنظیم کا طریقہ واردات سپاہ صحابہ سے قدرے مختلف تھا انہوں نے دوسرے فرقے کے ماہرین کو نشانہ بنانے کی بجاے کئی علماء کو نشانہ بنایا جو سپاہ صحابہ سے وابستہ تھے یا سپاہ صحابہ کی حمایت کرتے تھے-


 اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کے سپاہ محمد کے سربراہ کی گرفتاری کے بعد سے یہ تنظیم فعال نہیں رہی دوسری جانب سپاہ صحابہ دو گروہوں میں بٹ  گئی اور اس سے ایک اور تنظیم نکلی جو کے لشکر جھنگوی کے نام سے سرگرم ہے-رفتہ رفتہ فرقہ وارانہ قتل عام کا طریقہ زیادہ مہلک ہوتا گیا پہلے صرف گھات لگا کر یا شناخت کر کے لوگوں کو گولیاں مار کر قتل کیا جاتا تھا پھر اس میں بم دھماکوں کا استعمال ہونے لگا  گزشتہ دس سالوں میں خودکش حملے بھی شروع ہو گئے اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو مجھے خدشہ ہے کے اگلے دس یا بیس سال میں لشکرجھنگوی کہیں ٹینکوں اور میزائلوں کا استعمال نہ شروع کر دے-


میری راے میں ملک میں فرقہ واریت کی سیاسی وجوہات کے علاوہ کچھ معاشرتی وجوہات بھی ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کے وہ پاکستانی جو بیرون ملک پیدا ہوتے ہیں اور مغربی ممالک میں ہی تربیت پاتے ہیں ان میں سے اکثریت فرقہ واریت سے واقف نہیں ہوتی اور خود کو صرف مسلمان ہی کہلوانا پسند کرتے ہیں اور کسی بھی مسجد میں کسی بھی امام کے پیچھے نماز ادا کر لیتے ہیں ان مسائل کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے کے کس امام کے پیچھے نماز ادا کرنی ہے اور کس کے پیچھے نہیں اگر آپ کا مغربی ممالک جانے کا اتفاق نہیں ہوا تو آپ انٹرنیٹ پر ان مملک کی مساجد اور نمازیوں کی تصاویر تلاش کر سکتے ہیں ان تصاویر میں  آپ کو نمازی ایک ہی مسجد میں  مختلف طریقوں سے نماز ادا کرتے دکھائی دیں گے کوئی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھ رہا ہوگا تو کوئی ہاتھ چھوڑ کر اور کسی کو بھی کسی کے طریقہ نماز پر اعتراض نہیں ہوتا ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے- اسکا کریڈٹ مغربی ممالک کی حکومتوں کو جاتا ہے جو اس بات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اگر کوئی شخص فرقہ واریت پھلانے کی کوشش کرے دوسروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرے تو اسکو نہ صرف گرفتار کیا جاتا ہے بلکہ اسکے خلاف قانونی کروائی بھی ہوتی ہے- 


اپنی ذاتی زندگی میں مجھے فرقہ واریت سے پہلی بار واسطہ پندرہ یا سولہ سال کی عمر میں پڑا جب میں ایک دوست   کے اسرار پر گھر سے دور اس مسجد نماز پڑھنے گیا جہاں وہ نماز پڑھنے جایا کرتا تھا یہ کراچی کی بات ہے ان دونوں میں کراچی میں رہا کرتا تھا- نماز پڑھنے کے بعد پچھلی صفوں میں موجود ایک مولوی صاحب بیان دینے لگے اور میں مولوی صاحب کا بیان سننے بیٹھ گیا اتنے میں وہ دوست پچھلی صفوں کی جانب آیا اور مجھے اٹھا کر لے گیا میں اسکی اس حرکت پر کافی خفا ہوا کے یہ کیا بدتہذیبی تھی بیچ بیان میں سے اٹھ جانا تو اس دوست کی زبانی مجھے پہلی بار معلوم ہوا کے مذکورہ مولوی صاحب ہمارے فرقے سے تعلق نہیں رکھتے تھے اس لئے اس دوست کے بقول ہم پر فرض تھا کے ہم انکی بات کو سنجیدگی سے نہ لیں بلخصوص جب بات دین کی ہو- میں نے کیونکے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی جہاں فرقہ واریت سے بالاتر ماحول تھا تو میں یہ بھی نہ جانتا تھا کے میں خود کس فرقے سے تعلق رکھتا ہوں مگر میں نے اس واقعے کے بعد جستجو کی تو معلوم ہوا کے ہم اہلسنت بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور جو مولوی صاحب تھے وہ دیوبندی فرقے سے تھے- یہ واقعہ اور میرے اس دوست کا رویہ میرے لئے کافی حیران کن تھا کیونکے میں ہر ایک کو ایک ہی جیسا مسلمان سمجھتا تھا تو میرے نزدیک یہ کوئی اتنا بڑا مسلہ نہ تھا- مجھے کافی جستجو ہوئی کے دوسرے مسلک کے مولوی صاحب کے افکار و نظریات کے بارے میں مزید جان سکوں کے وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر ہمارے مسلک کے لوگ ان سے خار کھاتے تھے خیر اس وقت تو یہ نہ ہو سکا کیونکے دوست کی ناراضگی کے ڈر سے میں نے دوبارہ اس مسجد کا رخ نہ کیا اور اپنے گھر کے قریب ایک مسجد میں نماز ادا کرنے لگا-


 اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کے ہمارے ملک کی اکثریت دوسرے مسالک کے لوگوں سے تبادلہ خیال کرنے سے کتراتی ہے اور لوگوں کو یہ درس دیا جاتا ہے کے مذھب اور سیاست دو ایسے موضوع  ہیں جن پر بات کرنے سے گریز ہی کیا جائے تو بہتر ہے- اسکا نتیجہ یہ ہوا کے لوگ اپنے فرقہ کے علاوہ دوسرے فرقوں  کے بارے میں اول تو زیادہ جانتے ہی نہیں ہیں اور جو کچھ جانتے ہیں وہ  دوسرے فرقوں کے مخالفین کی زبانی ہی جانتے ہیں (جو کے بیشتر منفی باتیں ہی بتاتے ہیں) لوگ اس موضوع پر تبادلہ خیال کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اگر کریں بھی تو انکی پوری کوشش مخالف مسلک کو غلط اور خود کو صحیح ثابت کرنے کی ہوتی ہے اس تبادلہ خیال کا مقصد دوسرے فریق کا نقطۂ نظر جاننا اور اپنا نقطہ نظر پیش کرنا نہیں ہوتا اور یہ ہی وہ رویہ ہے جو عدم برداشت کی بنیاد ڈالتا ہے اور آگے چل کر اسی رویے کی وجہ سے فرقہ وارانہ اختلاف فساد اور مذہبی انتہاء پسندی کی شکل اختیار کر جاتا ہے- 


اگر ہم نے اس مسلے پر قابو پانا ہے تو انتہاء پسند تنظیموں کے خاتمے کے علاوہ اپنے عمومی رویے بھی تبدیل کرنے ہونگے- مغربی ممالک کی طرح اشتعال انگیزی کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ایسے تمام مولویوں کے خلاف قانونی  کروائی کرنی پڑے گی جو فرقہ واریت پھیلاتے ہیں- ملک سے نفرت انگیز لٹریچر کو ختم کرنا ہوگا اور مکالمے کو فروغ دینا ہوگا اسکول کی سطح پر بچوں کو اس بات کی تعلیم دینی پڑے گی کے تمام مذاھب و مسالک قابل احترام ہیں- اپنی آئندہ نسلوں میں وہ سوچ پروان چڑھانی ہوگی جو خود کو  صحیح اور دوسرں  کو غلط نہ سمجھے بلکے یہ کام خدا پر چھوڑ دے- اسکے علاوہ ترکی و دبئی کی طرح مساجد و مدارس کو سرکاری کنٹرول میں لانا ہوگا ترکی اور دبئی میں مساجد اور مدارس کی کفالت حکومت کے ذمہ ہوتی ہے اور حکومت کی مساجد کے معاملات پر کڑی نظر ہوتی ہے یہاں تک کے جمعہ کے خطبے کے لئے امام مسجد کو موضوع بھی حکومت کی جانب سے دیا جاتا ہے کوئی امام اپنی جانب سے کوئی متنازع موضوع پر خطبہ نہیں دے سکتا- وہاں پر مسجد یا مدرسے کی توسیع کے لئے مسجد انتظامیہ کو چندہ لینے کی اجازت نہیں یہ کام حکومت کرتی ہے مگر چونکہ مساجد قائم کرنا اور انکی دیکھ بھال کرنا ہمارے یہاں انتہائی نیک کام سمجھا جا سکتا ہے تو ہم یہ کر سکتے ہیں کے جو لوگ مساجد و مدارس  کو چندہ دینا چاہیں وہ براہ راست چندے دینے کی بجاے اپنے عطیات حکومت کو دے سکتے ہیں- جب یہ چندے والا نظام حکومت کو دے دیا جائیگا تو مدارس کا ان چندوں سے جہادکے نام پر دہشتگردی کرنے والی تنظیموں کی سرپرستی کا سوال بھی ختم ہو جاے گا اگر اس مسلے کو سنجیدہ نہ لیا گیا بروقت اور درست اقدامات نہ کیے گئے تو یہ سنگین صورت بھی اختیار کر سکتا ہے اور ملک کو فرقہ وارانہ قتل عام سے ایک قدم آگے خانہ جنگی کی لپیٹ میں بھی لے جا سکتا ہے-   

1 comments:

الشیخ الاکبر نے لکھا ہے کہ

میرے ناقص خیال میں ان اور ان سے جڑے تمام مسایل کا حل مکمل ازادی اظھار راے اور اظھار ضمیر اور ساینس اور تحقیق کی مکمل ازادی سے جڑا ھے

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔