منگل، 10 ستمبر، 2013

پاکستانی قوم، طالبان اور مذاکرات

آج کل ہر طرف طالبان سے مذاکرات کی باز گشت سنائی دیتی ہے- حال ہی میں ایک کل جماعتی کانفرنس ہوئ اس میں بھی یہی طے پایا گیا کے طالبان سے مذاکرات ہی کیئے جائیں گے آپریشن مسلے کا حل نہیں، مسلے کے مذاکرات والے حل کو ہم پہلے بھی چودہ مرتبہ استعمال کر کے دیکھ چکے ہیں اور آج تک یہ مسلہ حل نہ ہو سکا اور پتا نہیں اس بار کیا بدل گیا ہے جو یار لوگ امید لگا کر بیٹھے ہیں کے اس بار مذاکرات سے سب حل ہو جاے گا طالبان اپنی مسلح کاروایاں چھوڑ کر باچا خان اور گاندھی کی طرح امن و عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار کرنے لگیں گے- طالبان سے مذاکرات کے لئے کوئی پیشگی شرائط بھی نہیں رکھی گئی ہیں کے وہ ہتھیار ڈال دیں گے تو اب انتظار کیجئے بہت جلد پوری قوم طالبان سے مذاکرات کی برکات سے مستفید ہونے والی ہے 

ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کے طالبان سے مذاکرات پر سب سے زیادہ زور دینی جماعتیں دیتی ہیں یہ وہی دینی جماعتیں ہیں جو سوات آپریشن سے پہلے اس بات کو ماننے کو ہی تیار نہیں تھے کے پاکستان میں طالبان کا کوئی وجود بھی ہے- اس آپریشن سے پہلے یہ ملک و قوم کو یہی کہہ کر گمراہ کرتے تھے کے پاکستان میں تو طالبان ہیں ہی نہیں طالبان تو افغانستان میں ہیں پاکستان میں تو دہشتگردی کی کاروائیاں امریکہ اور بھارت کرواتے ہیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے- پھر سوات آپریشن ہوا قوم نے دیکھا طالبان کا پاکستان میں وجود بھی تھا اور انہوں نے ہمارے فوجی بھی شہید کیے، مگر بہت سے لوگ اسکے بعد بھی بضد رہے کے نہیں پاکستان میں طالبان نہیں ہیں، تو ان سے میں یہی پوچھتا تھا کے اگر پاکستان میں طالبان نہیں ہیں تو سوات میں ہمارے فوجیوں کو کس نے مارا؟ کیا وہ ٹھنڈ لگنے سے ہی شہید ہو گئے؟ اس آپریشن کے بعد بہت سے لوگ اس بات کو تسلیم کرنے لگے کے ہاں پاکستان میں طالبان کا وجود ہے مگر پھر ایک نیا شوشہ شروع کیا گیا کے اصلی طالبان تو افغانستان میں ہیں اور تحریک طالبان پاکستان امریکی و بھارتی ایجنٹ ہیں، میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کے امریکہ و بھارت کے پاس اگر اتنے وفادار ایجنٹ ہیں کے وہ انکے حکم پر دوسرے ملکوں جا کر اپنی جان کی قربانی دے کر خودکش حملے کر سکیں تو پھر ان کو اتنی بڑی فوج، فضائیہ اور ایٹمی ہتھیار رکھنے کی کیا ضرورت یہ تو کسی بھی ملک کو صرف اپنے ایجنٹ بھیج کر ہی تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں- بالفرض ہم ان جماعتوں کی بات مان بھی لیں کے طالبان امریکی و بھارتی ایجنٹ ہیں تو اب یہی جماعتیں ان سے مذاکرات پر زور کیوں دے رہی ہیں اور ان غیر ملکی ایجنٹوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟

 پاکستانی عوام کو جتنا گمراہ ان مذہبی جماعتوں اور رنگ برنگی ٹوپیوں والے دفاعی تجزیہ نگاروں نے کیا ہے اتنا گمراہ تو دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے پروپگنڈا ڈیپارٹمنٹ نے جرمنی کو بھی نہیں کیا ہوگا-دوسری جنگ عظیم میں نازیوں نے پروپگنڈا کو با قائدہ سائنس بنا دیا تھا ہٹلر کا پورا شعبہ تھا جو اسکے وزیر اطلاعات گوبلز کی زیر نگرانی کام کرتا تھا، یہ پروپگنڈا ہی کی طاقت تھی جس کی بدولت جرمن قوم خبط عظمت میں مبتلا ہو گئی اور ہٹلر کے غلط اقدام پر کوئی اسکے خلاف آواز نہیں اٹھاتا تھا پوری قوم اسکے ساتھ کھڑی تھی اور اسکے ہر غیر انسانی کام کی حمایت کی گئی- اسی طرح مذکورہ بالا لوگوں نے پاکستانی قوم کو اس بری طرح کنفیوز کیا ہے کے قوم انکی تضاد سے بھرپور باتوں پر بھی یقین کرنے پر مجبور ہے کبھی یہ کہتے ہیں طالبان غیر ملکی ایجنٹ ہیں اور کبھی انکی دہشتگردی کے جواز پیش کرتے ہیں کے آپ نے امریکا کی مدد کی وہ ڈرون مارتا ہے تو طالبان کی دہشتگردی بھی جائز ہے کوئی ان سے پوچھے ایک جرم دوسرے جرم کا جواز کب سے ہونے لگ گیا؟

 ایک بات جو بہت سے لوگ نہیں سمجھتے وہ یہ ہے کے طالبان صرف ایک مسلح تنظیم نہیں بلکہ یہ ایک سوچ اور نظریہ ہے جیسے نازی فوج صرف ایک فوج نہیں تھی بلکہ نازی ازم ایک نظریہ تھا جو نازی فوج کے انسانیت کے خلاف جرائم کا ذمہ دار تھا- وہ نظریہ یہ کہتا تھا کے جرمن تمام اقوام سے برتر ہیں لہٰذا دنیا میں جینے اور حکومت کرنے کا حق بھی صرف انکو ہی حاصل ہے- طالبان کا نظریہ بھی کچھ اسی قسم کا ہے کے ان کی شریعت کی تشریح تمام قوانین سے برتر ہے اور اسکا نفاذ ہر مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے- جو ان کی شریعت کے نفاذ کی کوشش میں رکاوٹ ڈالے گا اس کا قتل جائز ہے چاہے وہ پاک فوج ہو یا پولیس ہو یا کوئی اور ادارہ جماعت گروہ یا فرد- طالبان سے ریاست پاکستان (جس کو طالبان مرتد اور کافر ریاست مانتے ہیں) کا مذاکرات کرنا ایسا ہی ہے جیسے دوسری جنگ عظیم میں یہودی نازیوں سے مذاکرات کرنے کی کوشش کرتے، ان مذاکرات میں نازیوں کی طرف سے یہی مطالبہ کیا جاتا کے جرمنی کو یہودیوں سے پاک کرنا ضروری ہے لہٰذا یہودی اگر نازیوں کے مظالم سے بچنا چاہتے ہیں تو اجتماعی خودکشی کر لیں ورنہ ان کو قتل کرنے کا کام نازی کر دیں گے- اسی طرح طالبان کا مطالبہ بھی یہی ہوگا کے جمہوریت کفر ہے ملک میں طالبان کی مرضی کے اسلامی قوانین نافذ ہونگے پارلیمنٹ عدالتیں پولیس اور فوج استعفیٰ دے کر سب گھر چلے جائیں پاکستان پر حکومت امیر المومنین کریں گے اور ملک میں انصاف اور ملک کا دفاع امیر المومنین کی ہی ذمہ داری ہوگی لہٰذا اب پارلیمنٹ فوج اور عدالتوں کی کوئی ضرورت نہیں- سوات آپریشن سے پہلے جو طالبان سے معاہدہ کیا گیا تھا اس میں بھی کچھ ایسی ہی شرائط تھیں اور سوات انکے حوالے کر کے وہاں انکی مرضی کا نظام قائم کر دیا گیا تھا مگر انہوں نے اس پر بھی اکتفا نہ کیا اور سوات نے نکل کر دوسرے علاقوں پر قبضہ کرنے کے لئے کاروائیاں شروع کر دیں- اس بار دیکھتے ہیں کیا طے پاتا ہے مذاکرات میں اور کتنی دیر کے لئے طالبان اپنی کاروائیاں ترک کرتے ہیں، کتنی دیر کے لئے اسلام آباد پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑتے ہیں، ایک بات تو طے ہے اگر یہ مسلہ مذاکرات سے حل ہونا ہوتا تو پچھلی چودہ کوششوں میں حل ہو چکا ہوتا یا تو ریاست پاکستان طالبان کا خاتمہ کر دے گی ایک نہ ایک دن یا پھر طالبان اسلام آباد پر قبضہ کر لیں گے، بس دیکھنا یہ ہے کے دونوں میں سے کونسی بات پوری ہوتی ہے-

5 comments:

Ishaq Israr نے لکھا ہے کہ

you raised the issue but did not suggest any solution. war can never be the answer, Taliban are among us they are Pakistnai nationals they cannot be crushed 100% nor all of them will go for combined suicide. you have good example of Afghanistan where USA strived for 12 years and still the success is not more than 5%.

mkj نے لکھا ہے کہ

Baat to bilkul theek kei hai aapnein,
100% agree with views,
Goverment of Pakistan and APC decided to peace talk with those who already

mkj نے لکھا ہے کہ

Well in the above comments Mr. Ishaq aksed for the comments,
First agree that War is not a solution, so why dont we make them realise to Taliban that war is not solution ,
Whaty they are doing is called war,
For US Dear us have to evacuate from Afhanistan, we have to live here,
if you just view the previous history of Pakistani Taliban always they only uderstand the langouge of Drones, and Guns , so no need to peace talk only a operation with full force and operation cleanup, thats it..

Ibneanwar نے لکھا ہے کہ

طالبان پر قابو پانا ناممکن نہیں۔ سعودی امداد پر پابندی، میڈیا میں گھسے ہوئے ان کے نمائندوں اور نفرت پھیلانے والے بندروں کو کنٹرول کرکے دنوں میں نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

imam bukhari نے لکھا ہے کہ

ishaaq sahab
u cant negotiate with someone who says whats mine is mine, whats yours is negotiable
comparison with USA is not fair here, US is a foreign invader while we are not , US is negotiating for safe exit and wants gurante from taliban that afghanistan will not become safe heaven of alqaida in future , US is not negotiating with taliban for peace bcoz ,peace or cease fire from taliban against US does not affect United states , taliban are exploding daily in our country not in US ,
as MKJ also said US has to evacuate afghanistan we have to live here , so if USA hands over afghanistan to Taliban it doesnt affect USA , but we cant afford that we have to live here

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔