بدھ، 13 نومبر، 2013

جماعت اسلامی اور کنفیوزڈ عوام

پروپگنڈے کے فن میں جتنی مہارت جماعت اسلامی کو حاصل ہے اگر آج ہٹلر زندہ ہوتا تو وہ یقیناً اپنے وزیر اطلاعت گوئبلز کو ٹریننگ کے لئے منصورہ بھیج دیتا- غالب اگر موجود ہوتے تو وہ یقیناً فرماتے:

پروپگینڈے  کے  تم  ہی  اُستاد  نہیں  ہو  گوئبلز
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی منور حسن بھی تھا

ملالہ کو گولی لگنے کا واقعہ ہو، طالبان کے دھماکے ہوں یا کوئٹہ میں لشکر جھنگوی کی کاروائیاں ہوں ان سب واقعات کو جماعت نے ہمیشہ تیسری قوتوں کے کھاتے میں ڈال کر طالبان کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش کی بعض اوقات تو خطرہ محسوس ہوتا تھا کے کہیں طالبان بُرا ہی نہ مان جائیں کے وہ اتنی محنت سے کاروائیاں کرتے ہیں پھر اُسکی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور جماعتی مولوی سارا کریڈٹ امریکہ انڈیا اور اسرائیل کو دے دیتے ہیں-

جماعتیوں کا پروپگینڈا ہمیشہ مرحلہ وار ہوتا ہے اور زیادہ تر اگلا مرحلہ پچھلے پروپگینڈے کی نفی کر رہا ہوتا ہے- مثلاً جب پرویز مشرف کے دور میں قبائلی علاقوں میں آپریشن کی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کے وہاں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں تو جماعتی یہ کہتے پائے جاتے تھے کے ایسا ممکن ہی نہیں ہے کے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی جنگجو آ جائیں اور وہاں ٹِک سکیں کیونکہ اُس علاقے کی روایات یہ ہیں کے وہاں مہمانوں کو مہمان خانے میں ٹہرایا جاتا ہے اور پورے گاوں کو خبر ہو جاتی ہے پورا گاوں مہمان سے ملنے آتا ہے- مگر بعد میں قبائلی علاقوں تو کیا پاکستان کے بڑے شہروں سے بھی غیر ملکی جنگجو برآمد ہوے، پشاور ایرپورٹ کے حملے میں غیر ملکی وسطیٰ اشیا کے جہادی ہی ملّوث تھے- ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں اسلامک موومنٹ اف ازبکستان کے لوگ بھی قید تھے جو جیل حملے میں طالبان نے آزاد بھی کروا لئے-

اسی طرح جب لال مسجد کا واقعہ ہوا تھا تو جسکے آخر میں مولوی عبدالعزیز برقعہ پہن کر فرار ہوے- تب سے آج تک جماعتی یہ راگ الاپتے رہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی سازش تھی مولانا عبدالعزیز غازی کو شرمندہ کرنے کی جو انکو برقعہ پہنا کر لائیو TV پر لایا گیا- عوام کی ایک بڑی تعداد کچھ دن پہلے تک واقعی یہ سمجھتی تھی کے جماعتی موقف دُرست ہے مگر کچھ دن پہلے حامد میر کے پروگرام میں جب مولانا عبدالعزیز تشریف لائے اور حامد میر نے مولانا سے برقعے کے بارے میں سوال کیا تو مولانا کا جواب خود ہی ملاحظہ کر لیجئے- اس ویڈیو میں تو مولانا نے تسلیم کر لیا اس بات کو اور برقعہ میں فرار ہونے کے شرعی دلائل بھی فراہم کر دیے- مولانا کے دلائل کی روشنی میں تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا برقعہ میں فرار ہونا ہر جہادی کا آخری راستہ ہوتا ہے- پنجاب حکومت کو چاہیے کے پنجاب یونورسٹی ہاسٹل سے نکلنے والے برقعہ پوشوں پر خوصوصی نظر رکھی جائے کیونکہ برقعہ کے اندر خاتون کی جگہ کوئی القائدہ کا جنگجو بھی برآمد ہو سکتا ہے جسکو جمعیت کے توسط سے پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل میں ٹہرایا گیا ہو-

جب دو مئی کی سہانی رات امریکی کمانڈوز ہیلی کاپٹر میں آکر ایبٹ آباد میں جماعت کے ہیرو اوسامہ بن لادن کو حکیم ﷲ محسود کی طرح شہادت کے رتبہ پر فائز کر کے گئے تو اُسکے بعد ہمیشہ کی طرح جماعتی موقف گمراہ کن تھا کہ اُسامہ تو ایبٹ آباد میں موجود ہی نہیں تھا وہ تو کب کا مر کھپ چکا تھا یہ سب امریکیوں کا ڈرامہ ہے- مگر اس پروپگینڈے کی قلعی اُس وقت کُھل گئی جب الجزیرہ TV (جو کے برادر اسلامی ملک کا ہے) نے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ جاری کر دی- کمیشن میں شامل جج صاحبان کی تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا کے یہ وہی رپورٹ ہے جو کمیشن نے بنائی تھی- اُس رپورٹ کو پڑھ لینے کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کے اُسامہ بن لادن پاکستان میں ہی موجود تھا- اگر کوئی اب بھی بضد ہو کے اُسامہ ایبٹ آباد میں نہیں تھا تو وہ یہ بتا دے کے پھر اُسکے درجن بھر عربی بیوی اور بچے ایبٹ آباد کب اور کیسے آ گئے- کیا اُنکو بھی امریکی اپنے ساتھ ہیلی کاپٹروں میں بٹھا کر لائے تھے؟

جب ملالہ کو گولی لگی تو جماعتیوں کا ابتدائی موقف یہ تھا کے ملالہ کو گولی امریکی ایجنٹوں نے ماری ہے تاکہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کی راہ ہموار کی جا سکے- ویسے قبائلی علاقوں میں امریکی آے دن بغیر راہ ہموار کیے ڈرون مارتے ہیں- پھر جب دیکھا کے قبائلی علاقوں میں کوئی آپریشن ہوتا دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا تب پروپگینڈا اگلے مرحلے میں داخل ہوا جو کے یہ تھا، ملالہ کو گولی لگی ہی نہیں یہ سب امریکی ڈرامہ ہے مسلمانوں کی توجہ گستاخانہ فلم سے ہٹانے کے لئے- اسکے بعد راولپنڈی آرمی ہسپتال میں ملالہ کی عیادت کرنے آرمی چیف تشریف لے گئے تو لوگوں نے جماعتیوں سے سوال کرنا شروع کیا کے اگر ملالہ کو گولی لگی ہی نہیں تو کیا عمران خان اور آرمی چیف کیانی بھی اس ڈرامے کا حصہ ہیں؟
جب ملالہ کو ہوش آگیا اور اُسکی شکل دیکھ کر کوئی اندھا بھی بتا سکتا تھا کے گولی لگنے سے پہلے کی تصویروں اور بعد میں بہت فرق ہے- اب مجوراً جماعتیوں کو یہ تسلیم کرنا پڑا کے ملالہ کو واقعی گولی لگی تھی مگر وہ اب بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کے یہ گولی اُنہوںے ہی ماری تھی جنہوں نے اسکی ذمہ داری قبول بھی کی-

ابھی تازہ ترین جماعتی شوشہ حکیم ﷲ نامی طالبان لیڈر کو شہید کہنے اور اُس پر بضد رہنے کا ہے- اس سلسلے میں یہ دلیل دی جا رہی ہے کیونکہ حکیم ﷲ محسود امریکیوں کے خلاف افغانستان میں کاروائیاں کرتا تھا لہٰذا وہ شہید ہے- یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے ہزاروں لوگوں کا قاتل اسلئے نیک انسان تھا کیونکہ وہ میرے مخالفین کو نقصان پہنچاتا تھا- جماعت اسلامی نے اس پر بھی بس نہیں کیا اور یہ بھی کہا کے طالبان کے خلاف لڑنے والے پاکستانی فوجی شہید نہیں ہیں- اب پوری جماعت اسلامی اپنے لیڈران کے بیانات کا دفع کرنے میں لگی ہوئی ہے اور جماعتی پروپگینڈا مشینری ( فوٹوشاپ،امت اخبار، فیس بک پیجز اور کچھ کالم نگار) حرکت میں آچکی ہے مگر وہ ایک بات بھول رہے ہیں کے یہ اسّی کی دہائی نہیں ہے اور نہ اب معلومات کا واحد ذریعہ سرکاری کنٹرولڈ TV اور اخبار ہیں- آج کے آزاد میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں جماعتی پروپگینڈا بری طرح ناکام ہوگا اور مستقبل میں انڈیا اور بنگلادیش کی طرح پاکستان میں بھی جماعتی سوچ دم توڑ دے گی-

2 comments:

MAniFani نے لکھا ہے کہ

ہون سواد آیا بادشاہو۔ گزشتہ تحریر میں آپ نے اگلی ریڑھی کا رستہ دکھا دیا تھا۔ زور قلم کی بات کر رہا۔ باقی اختلاف کا مکمل حق استعمال کر رہا۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------

جیو بھی جماعت کا، ایکسپریس، اے آر وائے بھی، دنیا نیوز اور سماء ٹی وی پر بھی جماعت کا قبضہ اور آج چینل تو ہے ہی جماعت کا لنگوٹیا۔ باقی فاکس نیوز، بی بی سی، سی این این ، وائس آف امریکہ اور تمام ملکی و بین القوامی اخبار تو جماعت کے اشارے بغیر چلتے ہی نہیں۔ ٹیوٹر پر چار چار ٹرینڈ اپنے خلاف جماعت نے جان بوجھ کر چلوا دئے، سارے چینلز محرم کا پٹ سیاپا چھوڑ کر منور حسن کے پیچھے جماعت کے اپنے کہنے پر لگے۔ اور تمام اینکر اپنی تمام تر دانشوری اسی ایک بیان پر مذکور رکھے ہوئے تھے وہ بھی جماعت کا حکم تھا۔

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

imam bukhari نے لکھا ہے کہ

میں نے کب کہا کے تمام میڈیا جماعت کی پروپگینڈا مشینری کا حصہ ہے؟ اور جو حصہ ہے اُسکا ذکر کر دیا-
میں نے بھی یہی بات کی ہے کے آزاد میڈیا اور سوشل میڈیا کے ہوتے جماعتی پروپگینڈا کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اسّی کی دہائی نہیں ہے-

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔