سوموار، 30 دسمبر، 2013

نئے سال کا آغاز اور حادثات کی یلغار

آج سے دو دن بعد نیا سال شروع ہونے والا ہے- دنیا کے مختلف ممالک میں نئے سال کا آغاز مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے- مگر ان میں سے کوئی بھی طریقہ اس قدر واہیات اور بھونڈا نہیں ہے جس طرح سے پاکستان میں نئے سال کا آغاز کیا جاتا ہے- پاکستان میں نئے سال کا استقبال ہوائی فائرنگ اور سڑکوں پر موٹرسائیکلوں کے کرتب سے کیا جاتا ہے- ان دونوں طریقوں میں مسئلہ یہ ہے کے یہ انتہائی خطرناک ہیں نہ صرف اپنے لئے بلکہ دیگر لوگوں کے لئے بھی- ہمارے ہر سال کا آغاز ہی حادثات سے ہوتا ہے جو سارا سال ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے- انتہائی افسوسناک خبروں کے ساتھ ہمارے بیشتر تہواروں کا اختتام ہوتا ہے چاہے وہ بسنت ہو یا نیو ائیر نائٹ-


ہر سال 31 دسمبر کی رات پورا پاکستان ہوائی فائرنگ سے گونج اٹھتا ہے- مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکا یہ کیا طریقہ ہوا خوشی منانے کا؟ ہوائی فائرنگ کرنے کا مقصد طاقت کا اظھار ہوتا ہے- یہی وجہ ہے جب کسی انسان کو اپنے گھر کی طرف حملہ آور آتے یا ڈاکو پھلانگتے دکھائی دیتے ہیں تو وہ بیرونی حملہ آوروں یا لٹیروں  کو ڈرانے کے لئے ہوائی فائرنگ کرتا ہے- اس کا مقصد حملہ آوروں کو یہ بتانا ہوتا ہے کے میں بھی اسلحہ سے لیس ہوں اور اگر اپنے ارادوں سے باز نا آئے تو مسلح مقابلہ ہو سکتا ہے-
جس طرح سے پاکستان میں 31 دسمبر کی رات ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے مجھے لگتا ہے شاید اس فائرنگ کا مقصد کسی دوسرے سیّارے سے کرّہ ارض کی جانب پیش قدمی کرتی کسی خلائی مخلوق کو ڈرانا ہوتا ہے- اور یہ نادیدہ خلائی مخلوق ہر سال ہماری طاقت دیکھ کر حملہ کرنے کا ارادہ اگلے سال تک کے لئے ملتوی کر دیتی ہے- خوشی منانے کا یہ عجیب بلکہ واہیات اور خطرناک طریقہ میرے سمجھ سے بالاتر ہے- خطرناک اسلئے کے بندر کے ہاتھ اُسترا یا ماچس لگ جائے تو وہ پورے جنگل اور بلخصوص بندر کے لئے خطرناک صورتحال ہوتی ہے اور وجہ اُسکی ناتجربہ کاری ہوتی ہے- ہمارے ملک میں بیشتر لوگ لائسنسڈ اسلحہ بطور فیشن صرف نیو ائیر اور شادی بیاہ کے موقع پر استعمال کرنے کی غرض سے رکھتے ہیں- اسلحہ ایسی چیز نہیں جو بطور فیشن رکھی جائے اور اسکو استعمال اور ہینڈل کرنے کی باقائدہ تربیت نہ لی جائے ورنہ ایسی صورت میں اسلحہ رکھنے سے انسان محفوظ نہیں بلکہ مزید خطرے میں آجاتا ہے- نئیو ائیر پر حادثات کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کے لوگوں نے اسلحہ استعمال کرنے کی بقاعدہ تربیت نہیں لی ہوتی اُن سے غلطی سے گولی چل جاتی ہے اور یہ گولی کسی نہ کسی کے لگ جاتی ہے- دوسری وجہ حادثات کی یہ ہے کے ہوا میں چلائی گئی گولی واپس زمین کی طرف بھی آتی ہے ظاہر ہے جب ہوائی فائرنگ گنجان آباد شہروں میں کی جائے گی تو اس بات کا بہت امکان ہے کے ہوا میں چلائی گئی گولی جب زمین پر آ کر گرے گی تو وہ کسی انسان پر گر کر اُسکو زخمی یا ہلاک کر سکتی ہے-

ان حادثات کی ذمہ داری حکومت سے زیادہ عوام پر عائد ہوتی ہے- کوئی بھی حکومت ہر شہر کی ہر گلی میں پولیس تعینات نہیں کر سکتی جو لوگوں پر نظر رکھے اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کو گرفتار کرے- عوام میں ہی اس بات کا شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کے آپ کی تفریح کسی کی جان سے بڑھ کر نہیں- پستول کی ایک گولی تیس رپے اور رائفل کی سو رپے سے زائد کی آتی ہے اور ہر سال 31 دسمبر کو ملک بھر میں لاکھوں نہیں تو ہزاروں گولیاں تو فائر کی جاتی ہونگی اگر اِسکا حساب لگایا جائے تو یہ ایک خطیر رقم بنتی ہے اگر لوگ اس رقم کو ہوا میں اُڑا کر دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے کی بجائے مستحقین میں تقسیم کر دیں تو یقیناً بہت سے لوگوں کا بھلا ہو جائے گا وہ نئے سال کا آغاز بہتر طریقے سے کر سکینگے- میری نظر میں تو نئے سال کی خوشی منانے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں ہو سکتا-

یہ بات بھی سوچنے کی ہے کے ہمارے ہی ملک کے نوجوان نئے سال کا آغاز ان خطرناک سرگرمیوں سے کیوں کرتے ہیں؟ باقی دنیا میں ایسا کیوں نہیں ہوتا- میرے خیال میں اس کی وجہ بے جا پابندیاں اور نکتہ چینی ہے- ہر سال 31 دسمبر سرِ شام ہی ایک ڈنڈا بردار ٹولہ سڑکوں پر نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو بھی نئے سال کی خوشی مناتا نظر آئے اُسکو آڑے ہاتھوں لیتا ہے- البتہ کسی مسلح شخص کو جو ہوائی فائرنگ کر رہا ہو یا جو موٹرسائیکل پر ہوا سے باتیں کر رہا ہو اُسکو آڑھے ہاتھوں لینا آسان کام نہیں ہوتا- نوجوانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کے نیا سال منانا ہماری روایات اور اقدار کے منافی ہے اور اُسکو معیوب سمجھا جاتا ہے- نتیجتاً نوجوان جسکے پاس پہلے ہی تفریح کے کوئی خاص ذرائع نہیں وہ اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور نیو ائیر منانے میں مہم جوئی کا عنصر شامل ہو جاتا ہے- اگر ہمارے ملک میں نوجوانوں کو نئے سال کا آغاز منانے کی آزادی ہو تو کوئی بھی نیا سال یقیناً ایسے منانا نہیں پسند کرے گا جیسے فلحال منایا جاتا ہے-

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔