اتوار، 13 اپریل، 2014

صرف برائیاں ہی نظر آتی ہیں؟

حال ہی میں آئی 2 امریکی فلمیں، django unchained اور 12 years a slave جنہوں نے نہیں دیکھیں میرا مشورہ ہے ضرور ملاحظہ کریں، دونوں فلموں کی کہانی انیسویں صدی کے امریکہ پر مبنی ہے جب غلامی کا رواج عام تھا- ان فلموں کو دیکھ کر آپ کو پتا چلے گا غلام کن حالات میں اپنی زندگی گزارتا تھا اُس پر کس قسم کے مظالم کیے جاتے تھے اور اُنکا استحصال کرکے آقا کس طرح اپنی دولت میں اضافہ کیا کرتے تھے- امریکی تاریخ کا یہ تاریک پہلو دُنیا کے سامنے خود امریکی فلم ساز ہی لے کر آئے ہیں- ان فلموں کو کافی ایوارڈ بھی ملے مگر امریکہ میں کسی نے ان فلمسازوں پر پاکستانی ایجنڈے کے تحت کام کرنے کا الزام نہیں لگایا، نہ کسی نے یہ کہا کے یہ فلمیں پاکستانی سازش ہیں امریکہ کو بدنام کرنے کی جب ہی ان فلموں کو اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کے تمام فلم ایوارڈز کے لئے نامزد ہوئیں- نہ کسی نے یہ کہا، ان فلم سازوں کو امریکی تاریخ نظر آتی ہے، عربوں کی تاریخ نظر نہیں آتی؟ کیا اُنہوں نے غلاموں کا کم استحصال کیا؟ یہاں تک کے خلیفہ اور سپاہ سالار کے درمیان اس بات پر جھگڑا ہو جاتا تھا کے مفتوح علاقوں کے اچھے غلام اور کنیزیں سپہ سالار نے اپنے پاس رکھ لئے خلیفہ کو نہیں پیش کیے- عرب ممالک میں آج تک غیر ملکی ملازمین کے ساتھ غلاموں والا سلوک ہوتا ہے یہ نہیں دکھائی دیتا اِنکو؟ نہ کسی نے یہ کہا ان فلم سازوں کو انڈیا نظر نہیں آتا جہاں آج بھی غربت اور افلاس کے ہاتھوں انسان کی حالت غلاموں جیسی ہے؟ ان فلم سازوں کو پاکستان نہیں نظر آتا جہاں آج تک مزارعوں کی حالت وڈیرے اور جاگیردار کے زرخرید غلام جیسی ہے جہاں ہر سال غیرت کے نام پر ہزاروں عورتیں غلاموں کی طرح قتل کر دی جاتی ہیں یا اُنکے چہرے تیزاب پھینک کر مسخ کر دیے جاتے ہیں، جہاں 16 سالہ بچی تعلیم کے حق میں آواز اٹھانے پر گولی کھاتی ہے- ان فلم سازوں کو سعودی عرب نظر نہیں آتا جہاں عورت کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں،  گیارہ ستمبر کے حملے نظر نہیں آتے جس میں 3000 امریکی مارے گئے؟ یہ اُس پر بات کیوں نہیں کرتے؟ امریکیوں پر ہونے والے ظلم پر اِن رُوپے اور ریال خور فلم سازوں کی زبانوں کو تالا لگ جاتا ہے؟ ان فلم سازوں کو شمالی کوریا اور ایران کیوں نہیں نظر آتا؟ روس کی یوکرین میں مداخلت پر یہ بات کیوں نہیں کرتے؟ اُس پر کوئی فلم کیوں نہیں بناتے؟ یہ ہزار سال پہلے گزرے وائکنگز کی تاریخ پر بات کیوں نہیں کرتے جنہوں نے برطانیہ پر حملے کرکے انسانوں کو تہہ تیغ کیا- اِنکو تاریخ میں چنگیز اور ہلاکو کی قتل و غارت نہیں یاد ان کو ہٹلر سٹالن پول پوٹ اور ماؤ کے دور میں مارے گئے لوگوں پر کوئی فلم بنانے کا خیال کیوں نہیں آتا؟ افغانستان میں طالبان نے جس طرح تاجکوں اور ہزارہ کا قتلِ عام کیا یہ اُسکی بات کیوں نہیں کرتے؟  ان کو تاریخ میں صرف امریکیوں کی برائیاں ہی نظر آتی ہیں اور امریکہ دُشمن یہودی نواز آسکر جیوری جس نے ان برائیوں پر مبنی فلموں کو بھرپور پذیرائی دی، یہ سب امتِ مسلمہ کی امریکہ جیسی تاقیامت قائم رہنے والی نظریاتی ریاست کے خلاف ایک منظم سازش ہے-

اب زرا شرمین عبید چنائے کی اُس ڈاکومنٹری کو یاد کیجئے جسکو پہلی پاکستانی آسکر یافتہ فلم کا اعزاز حاصل ہوا- مگر اُس پر ہمارا رویہ کیسا تھا؟ کیا وہ ڈاکومنٹری غلط بیانی پر مبنی تھی؟ کیا پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات پیش نہیں آتے یا شرمین نے کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کو پاکستان کے نام سے منسوب کرکے دُنیا میں ہماری رسوائی کا سامان کیا؟ مجھے تو اُس میں کوئی بھی ایسی بات نظر نہیں آئی جو حقائق سے متضاد ہو- بہت سے لوگوں کا کہنا تھا اِکا دُکا پیش آنے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا- ایسے لوگوں کو میں اِکا دُکا کی تعریف بتانا پسند کروں گا زمین پر شہابِ ثاقب ٹکرانے کے واقعات گزشتہ 3 سال میں اِکا دُکا پیش آئے مگر کوئی کہے پاکستان میں گزشتہ 5 سال میں کرپشن کے اِکا دُکا واقعات پیش آئے کیا یہ بات دُرست ہوگی؟ یقیناً ایسا نہیں تھا- پاکستان میں باقاعدہ ادارے موجود ہیں جو تیزاب گردی کی شکار خواتین کا علاج اور مدد کرتے ہیں- کیا پاکستان میں شہابِ ثاقب سے متاثرہ افراد کے لئے کوئی ادارہ موجود ہے؟ اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو اُسکی وجہ یہ ہے کے شہابِ ثاقب کے کرہ ارض سے ٹکرانے کے واقعات اِکا دُکا ہی پیش آتے ہیں- دوسرا اعتراض یہ پیش کیا گیا کہ مغرب کو پاکستان کی اچھائیاں نظر نہیں آتیں؟ عارفہ کریم جیسی ہونہار بچیاں نظر نہیں آتیں؟ ایدھی جیسے لوگ نظر نہیں آتے؟ فلاں اور ڈھمکاں نظر نہیں آتا؟ نگاہِ انتخاب ٹہرتی ہے تو خامیوں پر ہی کیوں؟ مگر ان حضرات کو یہ نظر نہیں آتا کے عارفہ کریم کو آپ جانتے ہی امریکی کمپنی مائیکروسافٹ کی وجہ سے ہیں وہ اگر اُسکو پذیرائی نہ دیتے تو شاید ہمارا میڈیا بھی نہ دیتا اور ہمیں خبر بھی نہ ہوتی کے ملک میں اس نام کی کوئی بچی کبھی گزری- ایدھی صاحب کو درجنوں غیر ملکی ایوارڈز مل چکے- یہ ساری باتیں کوئی امریکی بھی کر سکتا ہے مذکورہ بالا 2 فلموں کے ہدائیتکاروں کے بارے میں، کے اِنکو امریکی تاریخ میں گزرے ابراہم لنکن جیسے لوگ نظر نہیں آتے جنہوں نے غلامی کی قبیح رسم کا خاتمہ کیا؟ اِنکو فلاں نظر نہیں آتا؟ ڈھمکاں نظر نہیں آتا؟ مگر وہ لوگ ایسی باتیں نہیں کرتے کیونکہ وہ خبطِ عظمت یا نرگسیت میں مبتلا نہیں ہیں-

کبھی آپ نے سُنا ہے کوئی سفاک قاتل عدالت میں پیش ہوا ہو اور وہاں وکیل کہے جج صاحب آپ کو یہ نظر نہیں آتا کے قاتل دس لوگوں کی کفالت بھی کر رہا تھا اور رفاہی کاموں میں پیش پیش تھا؟ نہیں جب مقدمہ پیش ہوتا ہے تو صرف جرم پر ہی بات کی جاتی ہے جرم کے علاوہ انسان اپنی ذاتی زندگی میں کیسا ہے اس سے دُنیا کی کسی عدالت کو سروکار نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی بھی ضابطہ انصاف کے تحت فیصلہ محض اسلئے تبدیل کیا جا سکتا ہے کہ ملزم میں کچھ اچھائیاں بھی موجود ہیں- تنقیدی فلمیں، تحریریں یا ڈکومنٹریاں بھی ایک طرح کا مقدمہ ہوتی ہیں اُسکے جواب میں چھلانگیں مارنے سے حقیقت نہیں بدل جاتی- آج امریکہ اگر اپنے تمام تر جنگی جنون کے باوجود سپر پاور ہے اور اُنکا معاشرہ ہمارے معاشرے سے زیادہ منظم اور حقیقت سے قریب ہے تو اُسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کے وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا جانتے ہیں اور تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں- آپ کسی امریکی شہری کو کہیں کے اُنکے ملک نے عراق پر صرف شک کی بنیاد پر حملہ کرکے غلطی کی- وہ آگے سے یہ نہیں کہے گا تو کیا ہوا؟ آپ نے 71 میں بنگلہ دیش میں جو کیا اُسکا کیا؟ بلکہ وہ تسلیم کرے گا کے ہاں ہم نے غلطی کی تھی- اِسکے برعکس آپ پاکستانیوں سے 71 پر بات کرکے دیکھ لیں اکثریت اُس واقعے کی ذمہ داری شیخ مجیب سے لے کر اندرا گاندھی اقوامِ متحدہ اور امریکی بحری بیڑے تک سب پر عائد کرینگے اور اُسکو دُشمن کی سازش گردانیں گے مگر اپنی غلطی نہیں تسلیم کرینگے- اگر ہمیں اپنی حالت بدلنی ہے تو سب سے پہلے اپنی سوچ بدلنا ہوگی، نرگسیت اور خبطِ عظمت سے باہر نکلنا ہوگا ورنہ ہر گلی سے لال ٹوپی والوں کا لشکر نکلے گا جو ہاتھ میں پتھر اٹھائے لال قلعہ فتح کرنے مارچ کرتا ہوا واہگہ کی جانب پیش قدمی کرے گا مگر راستہ میں ہی پولیس کا لاٹھی چارج دیکھ کر اپنا ارادہ ملتوی کرکے واپس گھر آجائے گا-

7 comments:

izhar khan نے لکھا ہے کہ

اچھی جھنجھوڑنے والی تحریر ہے. مگر اثر پذیری ان کیلیے جو پہلے سے ہی اس بات کے قائل ہیں.

hamza niaz نے لکھا ہے کہ

بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی

گمنام نے لکھا ہے کہ

بہت خوب مزا آگیا

Zara Sochiyay نے لکھا ہے کہ

Excellent writeup.

Soonh Rustamani نے لکھا ہے کہ

(Tremendous (y

Stale Mate نے لکھا ہے کہ

آپ سب کا شکریہ

Shahab Saqib نے لکھا ہے کہ

great analysis

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔