بدھ، 21 مئی، 2014

پاکستان میں بلاسفیمی کی ستم ظریفی


مندرجہ ذیل تحریر علی سیٹھی کے آرٹیکل کا ترجمہ ہے جس کو ایکسپریس ٹریبیون نے سینسر کر دیا- جن چیزوں پر ریاست پابندی لگائے اُن کو ضرور پڑھنا چاہیے کیونکہ اُن میں کچھ تو ایسا ہے جو اربابِ اختیار نہیں چاہتے کہ آپ کو پتا لگے- اوریجنل تحریر یہاں پڑھی جا سکتی ہے- اُردو پڑھنے والے قارئین کی سہولت کے لئے خاکسار نے آرٹیکل کا اُردو ترجمہ کر دیا ہے-


پاکستان میں بلاسفیمی کی ستم ظریفی

مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میری زندگی بہت ہی لگی بندھی تھی-
مذکورہ بالا جملہ جنید حفیظ نے کہا جو جنوبی پاکستان سے تعلق رکھنے والا نوجوان شاعر اور فل برائٹ سکالر تھا اُس نے2011 میں ایک ریڈیو ہوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اُس نے طب کی تعلیم ادبی زندگی گزارنے کے لئے کیوں ترک کی- آج وہ جیل میں ہے ایک بلاسفیمی کے الزام کی وجہ سے جس کی سزا موت ہے، اور اُس وکیل کی موت کی وجہ سے غمزدہ ہے جو اُس کا دفاع کرنے وجہ سے قتل کر دیا گیا-
اپنی گرفتاری سے قبل جنید بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ انگریزی میں تدریس کے فرائض انجام دے رہا تھا جو اُس شہر کے قریب ہے جہاں وہ پلا بڑھا- اپنی سحر انگیز شخصیت اور روشن خیالی کی وجہ سے جہاں اُس نے اپنے شاگردوں کو گرویدہ بنا لیا تھا وہیں دیگر اُساتذہ کی حاسدانہ نگاہوں کا مرکز بھی بن گیا تھا-
2013 کے ایک دن ایک طالب علم نے جو سخت گیر جماعتِ اسلامی کی ذیلی شاخ اسلامی جمعیت طلباء سے تعلق رکھتا تھا جنید حفیظ پر فیس بک پر پیغمبرِ اسلام کی توہین کا الزام لگایا- طالب علم کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا، مگر کسی ثبوت کی ضرورت بھی نہ تھی-
سخت گیر طلباء نے جلد ہی احتجاج شروع کر دیا جس میں حفیظ کے لئے پھانسی کا مطالبہ کیا گیا- یونی ورسٹی انتظامیہ پیچھے ہٹ گئی- پولیس نے حفیظ کے خلاف بلاسفیمی کا مقدمہ درج کر لیا- اُنہوں نے سائبر کرائم کے ماہرین سے الزامات کی تحقیقات کروانے کی بجائے مدرسے کی جانب سے جاری کیے گئے فتوے پر انحصار کیا-
Jacob Stead

کئی ماہ تک حفیط کے والد وکیل ڈھونڈتے رہے- آخر کار اُنہوں نے بذریعہ پٹیشن 53 سالہ راشد رحمان کی خدمات حاصل کیں جو ہیومن رائٹس کمیشن ملتان کے سپیشل کو آرڈینیٹر تھے- ایک قانونی ماہر جسکا بحیثیت سرگرم کارکن 20 سالہ تجربہ تھا، رحمان مایوس کُن کیسز لینے کے حوالے سے جانے جاتے تھے- خطرات کے باوجود وہ حفیظ کا کیس لینے پر رضامند ہوگئے- توہینِ رسالت کے ملزم کا کیس لڑنے کے حوالے سے رحمان نے ایک رپورٹر کو بتایا کہ یہ موت کے منہ میں جانے جیسا ہے-
موت کا یہ دہانہ 1980 سے کھلا ہوا ہے جب فوجی ڈکٹیٹر جنرل محمد ضیاءالحق نے چند استعماری قوانین میں ترمیم کرکے "کسی بھی شخص کے" مذہب کی توہین کو جرم قرار دیا- اصل قوانین پدرشاہی برطانوی حکومت نے انیسویں صدی میں متعارف کروائے تھے تاکہ اُن کی کثیر المذہب رعایا باہم دست و گریباں نہ ہوں- وہ قوانین کسی خاص مذہب پر لاگو نہ ہوتے تھے اور جرمانہ یا زیادہ سے زیادہ 2 سال قید کی سزا دیتے تھے-

جنرل ضیاء کی ترامیم نے ان قوانین کو مخصوص کر دیا اور دفعات کو اسلام کے ایک سخت گیر سنی مسلک کے لئے موزوں بنا دیا- قرآن کی بے حرمتی، پیغمبر اسلام یا اُن کے اصحاب کے بارے میں کوئی بھی نازیبا جملہ جرم ٹھہرا- جو کہ پاکستان کی شیعہ اقلیت پر ایک حملہ تھا جن میں پیغمبرِ اسلام کی وفات کے بعد ہونے والی جانیشی کی جدوجہد کے نتائج کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے- اِس کے علاوہ کلعدم قرار دیے گئے احمدی فرقے کے کسی بھی فرد کی جانب سے خود کو مسلمان کہنے کی کوشش جرم ٹھہرائی گئی- سزاؤں میں اضافہ کر دیا گیا، گستاخ کو سزائے موت یا عمر قید دی جاسکتی تھی-
جنرل ضیاء 1988 میں فضائی حادثے میں ہلاک ہو گیا مگر اُس کی میراث جوں کی توں ہے- جس میں دینی شخصیات کو ہر شعبہ زندگی میں اختیار دینا ہے- مولویوں سے لے کر ٹیلی ویژن مبلغین، شدت پسند اساتذہ اور شریعہ کورٹ کے ججوں تک سب کو اس مقدس مہم جوئی میں تقویت ایک قانون نے پہنچائی جو آج تک ناقابلِ اصلاح حد تک ضیائی ہے-
بلاسفیمی قوانین اس سب کا حصّہ ہیں- دہائیوں تک یہ شاذ و نادر ہی استعمال ہوتے تھے اور اس نوعیت کے اِکا دُکا واقعات پیش آئے مگر جنرل ضیاء کی ترامیم نے سیلاب کے آگے بندھا بند کھول دیا- ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق تب سے اب تک ہزار سے زائد کیسز درج ہو چکے- پچھلے ہی ہفتہ پنجاب پولیس نے ایک سنی انتہاء پسند کی اشتعال انگیزی پر 68 وکلاء کے خلاف بلاسفیمی کا مقدمہ درج کر لیا-
بلاسفیمی قوانین کوئی بھی بداندیش اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے- کوئی ناراض رشتے دار، کوئی حاسد ساتھی، کوئی پڑوسی جس کی نظر آپ کی جائیداد پر ہو- مگر اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیشہ ور ملّاؤں کو ہوا جو ان کا استعمال کرکے ریاست اور معاشرے دونوں کو دھونس دینے میں مہارت رکھتے ہیں-
مجھے اس بات کا ادراک اگست 2009 میں ہوا جب میں نے پاکستان کے قلب میں واقع ایک چھوٹے شہر گوجرہ کی سوختہ عیسائی بستی کا دورہ کیا- ایک مسلمان کسان نے افواہ اُڑائی کے عیسائیوں نے قرآن کی توہین کی ہے جو کے ملّاؤں کی جانب سے کیے گئے مساجد کے لاؤڈ سپیکروں سے جذباتی اعلانات کے بعد فساد کی ابتر صورتحال میں تبدیل ہو گئی- جب پولیس نے ملّاؤں کو روکنے کی کوشش کی اُنہوں نے بلاسفیمی قوانین کا ذکر کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھمکایا کہ ہجوم کا رُخ گستاخوں کو بچانے کی وجہ سے اربابِ اختیار کی طرف کر دیا جائے گا- 60 کے قریب عیسائیوں کے گھر نذرِ آتش کیے گئے اور 8 عیسائی مارے گئے-

ملّا ہمیں بتاتے ہیں کے کوئی بھی مسلمان مشتعل ہو کر متشدد ہو سکتا ہے جب اُس کے مذہب کی توہین کی جائے- مگر حقیقت جیسا کے سرکاری رپورٹ سے ظاہر ہے کافی متضاد اور افسوس ناک ہے- ایک بلاسفیمی کا الزام جب کوئی مذہبی کارکن اٹھائے تو اس سے ان گنت مفادات حاصل کیے جا سکتے ہیں، چھوٹی ذاتی ضروریات سے لے کر بڑے سیاسی مقاصد تک اور ایک مقدس سب کے لئے کھلی چھوٹ والا ماحول بنایا جا سکتا ہے- گوجرہ بلوائیوں میں علاقائی حزبِ اختلاف سیاستدان کے حلقے کے افراد، اور مسلح کلعدم سنی تنظیم لشکرِ جھنگوی کے لوگ ملوث تھے اور  آس پاس کے علاقوں کے کسان اور دھاڑی دار مزدور بھی لوٹ مار میں شامل ہو گئے-
پاکستان کے اسلامسٹ گروپس کو بلاسفیمی قوانین کی اصلاح میں برائے نام دلچسپی ہے- اُنہوں نے بلکہ ان قوانین کا دائرہ کار بڑھا کر اِن قوانین پر تنقید کو بھی اس میں شامل کر دیا ہے- اس مقصد کے حصول کے لئے اختلاف رکھنے والی مشہور شخصیات کو نشانہ بنایا گیا جن میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر، وفاقی وزیر برائے اقلیت شہباز بھٹی شامل ہیں جن کو 2011 میں قتل کر دیا گیا-
اور صرف دو ہفتے قبل راشد رحمان کا قتل ہوا-
اُنہوں نے مافیا کی طرز پر اُس کے گرد گھیرا تنگ کیا، ہر جانب سے- سب سے پہلے اُردو اخبارات میں مبم پیغامات کے ذریعے خبردار کیا گیا جس میں ایک وکیل کا ذکر کیا گیا جو "خود کو نقصان" پہنچانے پر تُلا تھا- پھر ملتان میں ایک پریس کانفرنس کی گئی جس میں سخت گیر ملّاؤں کے ایک گروہ نے رحمان پر حفیظ کے کیس کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کا الزام لگایا- اپریل میں حفیظ کے مقدمے کے دوران استغاشہ کے تین وکلاء نے جج کے سامنے رحمان کو کہا کے اگلی پیشی تک وہ "باقی نہیں رہے گا"-
رحمان کے ہیومن رائٹس کمیشن کے ساتھیوں نے حکومت سے سیکورٹی مہیا کرنے کی اپیل کی گزارش کی تھی- اُن کو کوئی مدد نہ ملی- حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ماضی میں بھی شدت پسند گروہ جیسے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے رعایت دے چکی ہے-
7 مئی کی رات دو نوجوان ڈسٹرکٹ کورٹ ملتان کے قریب رحمان کے دفتر میں داخل ہوئے اور اُس کو اُس کے ساتھیوں کے سامنے گولی مار کر قتل کر دیا اور رات کی تاریکی میں فرار ہو گئے- اگلی صبح تقریباً تمام اخبارات نے اُن کا ذکر "نامعلوم افراد" کہہ کر کیا- مگر جو چیز رحمان کے قتل کا محرک بنی اُس کی نشاندہی کی جا سکتی ہے: وہ پُرتشدد عدم برداشت ہے جس میں ریاست کی مجرمانہ اعانت شامل ہے-

7 comments:

Farzana Khan Anjum نے لکھا ہے کہ

میرا دل اس نوجوان کی لیے رو رھا ھے ۔ کاش ٖیہ امریکہ سے واپس ہی نہ آتا۔ وحشی درندوں کے چنگل سے آزاد رہتا۔

گمنام نے لکھا ہے کہ

مذہب کو ہمیشہ ہی مسلئہ بنا کر انسانیت کو لوٹا گیا ہے

Stale Mate نے لکھا ہے کہ

واقعی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے پاکستان واپس آنے سے پہلے انسان کو دس بار سوچنا چاہیے آپ یا تو فضّا ملک کی طرح طالبان کی دہشتگردی کا نشانہ بن سکتے ہیں یا جنید حفیظ کی طرح ملّا گردی کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں- جنید حفیظ پر جو الزامات ہیں وہ انتہائی بے بنیاد ہیں، ثبوت کی مد میں احتجاجی ریلی کے شرکاء کے بیانات کے علاوہ کچھ نہیں، کوئی بھی وکیل اس کیس کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دے گا بشرط یہ کے اُس کو زندہ رہنے دیا جائے کیس لڑنے کے لئے- راشد رحمان کا قتل ایک سانحہ تھا جس کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ نکلا کے ملتان کے دیگر 8 ہزار وکلاء اب کسی بلسفیمی کے ملزم تو کیا کسی غیر مسلم کا کیس لینے کو بھی تیار نہیں- ایسی صورتحال میں کوئی غیر مسلم یا بلاسفیمی کا ملزم اپنا وکیل کہاں سے لائے؟

گمنام نے لکھا ہے کہ

یہ دین فروشوں کی کارستانیاں ہیں جن کے پاس اپنے نفرت کے دکانوں میں رکھنے کے لئے جھوٹ، فریب اور بے بنیاد الزامات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ بلاسفیمی قانون کے دلدادہ دراصل اللہ اور ان کے رسول کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتے ہیں، یہ سوچ کر کہ یہ دو ہستیاں اپنی حفاظت نہیں کرسکتے اور اسلئے انکی حرمت بچانے کے لئے ملاوں اور ان پڑھ دہشتگردوں کے نام نہاد جذبات اور احساسات کی ضرورت ہے۔

اللہ کا کام ان دین فروشوں نے اپنے ذمہ لیا ہے اور پوری دنیا میں ہمارے دین کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کے پاس سوائے نفرت اور پھٹکار کے کچھ بھی نہیں ہے۔ شائد اسی لیے پوری دنیا میں مسلمانوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور دین سلامتی کو تشدد اور عدم برداشت کے علمبردار کی حیثیت میں جانا جاتا ہے۔

علی احمد جان اطہر نے لکھا ہے کہ

حیف صد حیف
نہیں معلوم کب ہم اس غلاضت سے باہر نکلیں گے۔ پورا ملک مٹھی بھر "خدا فروشوں" کی گرفت میں ہے۔ انھوں نے اپنے خدا اور مذہب کو اتنا کمزور بنا دیا ہے کہ کبھی یوٹیوب سے خطرہ ہوتا ہے کبھی فیس بک کے کسی پیج سے۔۔۔۔۔ معلوم نہیں یہ کس جانب جارہے ہیں؟ ان بے ضمیروں کے بارے میں ضمیر نے کیا خوب کہا تھا
؎
دین ، دھرم ، اسلام تمہارا
ہم کو جینے دو خدارا
ہم نہ خون بہانا جانیں
نہ بندوق چلانا جانیں
اپنی سوچ اور اپنا عقیدہ
زور سے نہ منوانا جانیں
ہم اللہ کے جاہل بندے
تو اللہ کا راج دلارا
ہم کو جینے دو خدا را
حور کی لذت تجھے مبارک
دودھ اور شربت تجھے مبارک
ہم دوزخ کی آگ ہی لیں گے
ساری جنت تجھے مبارک
جنت ہم کو نہیں گوارا
ہم کو جینے دو خدارا
دین ، دھرم ، اسلام تمہارا
ہم کو جینے دو خدارا

گمنام نے لکھا ہے کہ

آپ ٹھیک کہتے ہی ۔اب سکھون کی کتاب کی بے حرمتی کے مجرمون کو عمر قید ہو گی یاپھانسی؟یہ کیسا قانون ہے جو صرف مسلمانون کہ وحشی اشتعال کی حفاظت کر تا ہے؟؟

Muhammad Raza نے لکھا ہے کہ

تعصب سے بھر پیغام یہ ہے
بہاؤ خون درس عام یہ ہے
مسلمانوں کا جب انجام یہ ہے
میں کافر ہوں اگر اسلام یہ ہے

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔